نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 129

نظام نو — Page 23

تیسرے اصول کا نتیجہ یعنی حکومت کے مقرر کردہ معیار سے زائد اشیاء پر قبضہ کر لینے کا فیصلہ تیسرے اصول کے مطابق انہوں نے زمینداروں اور تاجروں وغیرہ سے ہر وہ چیز جو حکومت کے مقرر کردہ معیار سے زائد ہولے لینے کا فیصلہ کیا۔یعنی اگر کوئی شخص اپنی زمین سے پچاس من غلہ پیدا کرتا ہے اور اس کی ضروریات کے لئے ہیں من غلہ کافی ہے تو تمہیں من غلہ حکومت لے جائیگی اور کہے گی کہ یہ چیز چونکہ تمہاری ضرورت سے زائد ہے اسلئے اس پر حکومت کا حق ہے۔یا ایک شخص کے پاس بہت بڑی زمین ہے اور اس کا گزارہ تھوڑی سی زمین پر بھی ہو سکتا ہے تو جتنی زمین پر اُس کا گزارہ ہوسکتا ہے وہ اس کے پاس رہنے دی جائیگی اور باقی زمین پر حکومت قبضہ کر لے گی۔چوتھے اصول کا نتیجہ یعنی عملی آزادی کا فقدان چوتھے اصول کے مطابق زمیندار، تاجر اور صنعت پیشہ لوگوں کی عملی آزادی کو اس نے چھین لیا اور حکومت کے منشاء کے مطابق زراعت کرنا، تجارت کرنا اور صنعت و حرفت اختیار کرنا لازمی قرار دیا۔مثلا کہ دیا کہ فلاں سو میل کا جو علاقہ ہے اس میں صرف گندم بوئی جائے فلاں علاقہ میں صرف گنا بویا جائے اور فلاں علاقہ میں صرف کپاس بوئی جائے۔ہمارے ملک میں تو زمیندار عام طور پر دو مرلہ میں جوار بولیتے ہیں، دو مرلہ میں کپاس بو لیتے ہیں اور دو مرلہ میں گنا بولیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چھوٹے بچے ہیں گنے چوسیں گے اور اگر چھوٹے زمیندار ایسا نہیں کرتے تو جس کے پاس دس بارہ گھماؤں زمین ہو وہ تو ضرور ایسا کرتا ہے مگر بالشویک حکومت والوں نے علاقوں کے علاقوں کے متعلق یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ یہاں گندم نہیں بونی بلکہ گنا ہونا ہے۔کئی ضلعے ایسے ہیں جہاں صرف گندم بوئی جاتی ہے۔کئی ضلعے ایسے ہیں جہاں صرف گنا بویا جاتا ہے اور کئی ضلعے ایسے ہیں جہاں صرف کپاس ہوئی جاتی ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں یہ علاقے اسی فصل کے لئے موزوں ہیں 23