نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 129

نظام نو — Page 122

کو مبارکباد دیتا ہوں جنہیں وصیت کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے ان لوگوں کو بھی جو ابھی تک اس نظام میں شامل نہیں ہوئے توفیق دے کہ وہ بھی اس میں حصہ لے کردینی ودنیوی برکات سے مالا مال ہو سکیں اور دنیا اس نظام سے ایسے رنگ میں فائدہ اُٹھائے کہ آخر اسے یہ تسلیم کرنا پڑے کہ قادیان کی وہ ہستی جسے کو ردہ کہا جاتا تھا، جسے جہالت کی بستی کہا جاتا تھا اُس میں سے وہ نور نکلا جس نے ساری دنیا کی تاریکیوں کو دور کر دیا جس نے ساری دُنیا کی جہالت کو دور کر دیا، جس نے ساری دنیا کے دکھوں اور دردوں کو دور کر دیا اور جس نے ہر امیر اور غریب کو، ہر چھوٹے اور بڑے کو محبت اور پیار اور الفت با ہمی سے رہنے کی توفیق عطا فرما دی۔☆☆☆ 122