نظام نو — Page 113
جن سے وہ اپنے خاوند کے دل کو چھینا کرتی ہے اس کی طرف دیکھتی ہے اور کہتی ہے دیکھو جی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق دی کہ آپ نے وصیت کر دی میرے پاس اپنی جائیداد نہیں میں کس طرح وصیت کروں آپ اپنی جائداد میں سے کچھ مجھے دے دیں تو میں بھی اس نعمت میں شامل ہو جاؤں اور وہ اپنے نسوانی داؤ پیچ اور ان تیروں سے کام لے کر جو کہ خاوند بہت کم برداشت کر سکتے ہیں آخر اسے راضی کر ہی لیتی ہے اور وہ اسے اپنی جائداد میں سے کچھ حصہ دے دیتا ہے اس پر بیوی پھر اسی جائداد کی وصیت کرتی ہے اور کہتی ہے میں اس کے ۱/۱۰ یا ۱/۸ یا ۶ / ۱ حصہ کی وصیت کرتی ہوں گویا اس بچی ہوئی جائداد پر پھر ایمان ڈا کہ مارتا اور اس کا ایک اور حصہ قومی فنڈ میں منتقل ہو جاتا ہے اتنے میں بچہ گھر میں آتا ہے اور جب وہ سنتا ہے کہ اس کے باپ اور اس کی ماں نے وصیت کر دی ہے تو وہ دلگیر ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے باپ سے کہتا ہے ابا جی ! اللہ آپ کو دیر تک ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔میرے پاس تو کچھ نہیں میں کس طرح اللہ سے یہ ارزاں سودا کروں اگر مجھے کچھ دے دو تو میں بھی اللہ میاں سے اپنے لئے جنت کا سودا کرلوں۔اگر اس کے باپ کو اس سے زیادہ محبت ہوتی ہے تو وہ یہ خیال کر کے کہ آخر میری جائداد نے اسی کے پاس جانا ہے اسی وقت اپنی جائداد کا ایک حصہ اسے دے دیتا ہے اور وہ وصیت کر کے اپنے رب سے جنت کا سودا کر لیتا ہے۔اس طرح بقیہ جائداد کا پھر ایک اور حصہ قومی فنڈ میں آجمع ہوتا ہے اور اگر اس کا باپ نسبتا سخت ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں مانتا کہ اپنی زندگی میں لڑکے کو جائیداد دے دے تو نیک بخت لڑکا اُس جائیداد کا جو ابھی اُسے نہیں ملی سودا کر دیتا ہے اور وصیت کر دیتا ہے کہ گوا بھی میرے پاس کوئی جائیداد نہیں مگر میں وصیت کرتا ہوں کہ اس وقت جو میری آمدن ہے اس کا دسواں حصہ وصیت میں ادا کرتا رہوں گا اور اگر آئندہ میری کوئی جائداد ہوئی تو اس کا دسواں حصہ بھی ادا کروں گا جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہوتے ہیں کہ جب ابا جان فوت ہو جائیں گے اور ان کی جائیداد میرے قبضہ میں آجائے گی تو جو حصہ مجھے باپ کی وصیت کے بعد بچی ہوئی جائداد میں سے ملے گا اُس کے دسویں حصہ کا ابھی سے وعدہ کرتا ہوں۔اسی طرح بقیہ جائیداد کا پھر ۱/۱۰ قومی 113