نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 129

نظام نو — Page 7

اللہ نے انہیں بھوکا رکھا ہوا ہے بلکہ اس لئے کہ امراء نے ان کی دولت لوٹ لی ہے اور اگر امیر آرام میں ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آرام میں رکھا ہوا ہے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے غریبوں کولوٹ لیا ہے۔پس آج نقطۂ نگاہ بدل گیا ہے اور اس نقطۂ نگاہ کے بدلنے کی وجہ سے طبائع میں احساس اور اس کے نتیجہ میں اشتعال بہت بڑھ گیا ہے۔پہلا شخص صبر سے کام لیتا تھا اور اگر اللہ تعالیٰ سے اُسے محبت ہوتی تھی تو جب اُسے فاقہ آتا تب بھی سبحان اللہ کہتا اور جب پلاؤ کھا تا تب بھی سُبْحَانَ اللہ کہتا۔کیونکہ وہ سمجھتا تھا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی شخص بے ایمان ہوتا تب بھی خیال کرتا تھا کہ میں خدا تک تو نہیں پہنچ سکتا خاموش ہی رہوں مگر اب وہ سارا الزام جو پہلے خدا کو دیا جاتا تھا بندوں کو دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ امیر اور طاقتور لوگ یہ چاہتے ہیں کہ غریبوں کو ماریں پیٹیں اور اُن کا گلا گھونٹیں۔پس نقطۂ نگاہ کے بدلنے سے احساس بہت زیادہ تیز ہو گئے ہیں۔مشینری کی ایجاد سے امارت و غربت کے امتیاز میں زیادتی یوں تو یہ امتیاز ہمیشہ سے چلا آتا ہے اور شاید اگر اس کا سلسلہ چلایا جائے تو حضرت آدم علیہ السلام کے قریب زمانہ تک پہنچ جائے مگر بظاہر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جوں جوں تمدن ترقی کریگا یہ امتیاز متا چلا جائیگا چنانچہ اول اول جب مشینیں نکلی تھیں تو لوگوں نے بڑی بڑی بغاوتیں کی تھیں۔امراء کہتے تھے اس طرح غرباء کی حالت سدھر جائیگی اور زیادہ لوگوں کو کام ملنے لگ جائیگا اور غرباء کہتے تھے ایک مشین دین مزدوروں کا کام کریگی تو مزدور بے کار ہو جائیں گے۔آب واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ خواہ زیادہ لوگوں کو کام ملا ہو یا نہ ملا ہوگر مشینری کی ایجاد نے غریب اور امیر میں امتیاز کو بہت بڑھا دیا ہے۔7