نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 129

نظام نو — Page 96

ہے اسی طرح عورتوں کے لئے زیادہ زیور بنانے اسلام نے منع کر دیئے ہیں ،شراب سے روک دیا ہے، جوئے کو حرام قرار دیا ہے تا کہ غریبوں کے دلوں میں ان چیزوں کے حصول کی کوئی خواہش ہی پیدا نہ ہوا اور اس طرح جور و پیہ بچے وہ غریبوں کو دے دیا جائے۔اسلام میں جبری ٹیکسوں کے علاوہ طوعی طور پر زائد مال وصول کرنے کی صورت دوسری تجویز اسلام نے یہ کی ہے کہ بجائے انفرادی جد و جہد کو مٹانے کے اسے قائم رکھ کر اور جبر کی جگہ تحریک و تحریص سے کام لے کر علاوہ جبری ٹیکسوں کے امراء سے ان کے زائد مال لینے کی صورت پیدا کی ہے اور ظاہر ہے کہ انفرادیت کو مٹا دینا بھی مضر ہے کیونکہ اس سے عائکیت کے اعلیٰ جذبات اور علمی ترقی مٹ جاتی ہے اور جبری حصول بھی مضر ہے اگر کوئی ایسی سکیم ہو کہ انفرادیت بھی قائم رہے اور زائد مال تحریک و تحریص سے لے لیا جائے تو وہی سکیم دنیا میں امن کے قیام کا دور لانے کا ، سب کے لئے آرام پیدا کرنے کا اور باہمی الفت و محبت بڑھانے کا ذریعہ ہوگی چنانچہ اسلام ایسا ہی کرتا ہے۔غیر اسلامی تحریکات میں تو یہ قانون ہے کہ ہر شخص کے پاس جس قدر زائد مال ہو وہ جبر وتشدد سے لے لو مگر اسلام کہتا ہے کہ تم کسی پر جبر نہ کرو جو جبری ٹیکس ہیں وہ تو جبر سے وصول کرو مگر اُمراء سے انکے زائد مال لینے کے لئے جبر سے ہر گز کام نہ لو بلکہ ترغیب و تحریص سے کام لو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اُمراء کے دلوں میں غریبوں کی محبت پیدا ہوگی اور غریبوں کے دلوں میں امیروں کی محبت پیدا ہوگی اگر ایک شخص سے جبر أ حکومت مال لے لے تو نہ اس کے دل میں دوسروں کی محبت پیدا ہوگی اور نہ دوسروں کے دل میں اسکی محبت پیدا ہوگی لیکن اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنا مال لوگوں کی بھلائی کے لئے دے دے تو اس کے دل میں بھی دوسروں کی محبت پیدا ہوگی اور دوسروں کے دلوں میں بھی اسکی محبت پیدا ہوگی اس طرح انسانیت آپس میں زیادہ سے زیادہ مرتبط ہوتی چلی جائیگی۔96