نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 129

نظام نو — Page 78

کرتی ہوں تو پھر دوبارہ ان کے درمیان صلح کراؤ اور تفصیلات طے کرو۔مگر یا درکھو جب شرائط صلح طے کرنے لگو تو اس غصہ کی وجہ سے کہ اس نے کیوں جنگ کی۔عدل و انصاف کو ترک نہ کرو اور ایسا نہ کرو کہ پھر اپنا حصہ بھی مانگنے لگو بلکہ جو جھگڑا تھا اسی تک اپنے آپ کو محدود رکھو۔دیکھو یہ کیسی زبردست پیشگوئی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی اُسوقت کوئی مسلمان گروہ ایسے نہ تھے جن میں لڑائی کا خطرہ ہوتا۔پس در حقیقت یہ آئندہ کے متعلق ایک پیشگوئی تھی۔بغی اور قاتلوا کے الفاظ بھی بتارہے ہیں کہ اس کا تعلق حکومت سے ہے چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دو حکومتیں آپس میں جھگڑ پڑیں تو تمہیں یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ ان حکومتوں کو مجبور کر دو کہ وہ قوموں کی پنچایت سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرائیں۔اگر وہ منظور کر لیں تو بہتر اور اگر منظور نہ کریں اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کر دے تو باقی سب کا فرض ہے کہ اس کے مقابلہ میں یکجا ہو جائیں اور اس پر حملہ کر کے اُسے مغلوب کریں اور آخر میں جب مغلوب ہو کر وہ صلح پر آمادہ ہو جائے تو انصاف اور دیانت کے ساتھ شرائط طے کرو۔انتقام کے جوش میں اس قوم کے حصے بخرے کرنے اور ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔اس آیت میں جو اصول بتائے گئے ہیں وہ یہ ہیں :- (۱) اگر حکومتوں میں اختلاف ہو تو دوسری حکومتیں زور دیکر انہیں تبادلہ خیالات کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں۔(۲) اگر ان میں سے کوئی فریق نہ مانے اور جنگ کرے تو سب مل کر لڑنے والے سے جنگ کریں۔(۳) جب حملہ آور مغلوب ہو جائے اور باہمی سمجھوتہ کے فیصلہ پر راضی ہو جائے تو پھر سب ساتھ مل کر صلح کا فیصلہ کرائیں (آیت میں پہلی صلح صلح سے کام کرنے اور آپس میں مصالحت سے رہنے کے معنوں میں ہے اور دوسری صلح شرائط صلح سے طے کرانے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ دوبارہ شرائط کے کوئی معنے نہیں۔عدل کا اضافہ بھی اس پر دال ہے۔) 78