نظام نو — Page 72
بقول اُنکے یہ امتیاز جو نسلی طور پر لوگوں میں پایا جاتا ہے مٹ نہیں سکتا۔چوتھا نظریہ ایک اور قانون یہ بیان کیا جاتا ہے کہ دنیا میں صرف جمہور کو حکومت کرنے کا حق ہے اس لئے اقلیتوں پر جو چاہو ظلم کرو۔اس نظریہ کے ماتحت یہ لوگ اقلیت کو تباہ کر دیتے ہیں اور تھوڑے آدمیوں کی آواز کو سنتے ہی نہیں۔پانچواں نظریہ اسی طرح اُن کا ایک یہ بھی قانون ہے کہ جو گری پڑی چیز ملے لے لو۔ہم بچپن میں جب آپس میں کھیلا کرتے اور ہمیں کوئی گری پڑی چیز مل جاتی تو ہم یہ کہتے ہوئے اُسے اٹھا لیتے کہ بھی چیز خدا دی نہ دھیلے دی نہ پادی اور سمجھتے کہ یہ کوئی ایسا منتر ہے جس کو پڑھ کر گری پڑی چیز کو اٹھا لینا بالکل جائز ہو جاتا ہے مگر وہ چیز جو بچوں کو کھیلتے ہوئے مل جاتی ہے کوئی قابل ذکر نہیں ہوتی کبھی انہیں مکی یا چنے کا دانہ زمین پر پڑا ہوامل جاتا ہے، کبھی بٹن یا ایسی ہی کوئی چیز مل جاتی ہے اور وہ اُسے اٹھا لیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایک دفعہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ گری پڑی چیز کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا مثلاً ؟ اُس نے کہا مثلاً جنگل میں مجھے کوئی بکری مل جائے تو آیا میں اُسے لے لوں یا نہ لوں؟ آپ نے فرمایا جنگل میں اگر تجھے کوئی بکری مل جائے تو تو ادھر ادھر آواز دے کہ یہ کس کی بکری ہے اور اگر آواز دینے کے باوجود تجھے اس کا مالک نہ ملے تو تو اُسے لے لے اور کھا جا کیونکہ اگر تو نہیں کھائیگا تو تیرا بھائی بھیڑیا اُسے کھا جائیگا۔اس نے کہا یا رَسُولَ اللهِ! اگر جنگل میں اونٹ مل جائے تو پھر کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا تیرا اونٹ سے کیا تعلق ہے؟ اونٹ کا کھانا درختوں پر اور اس کا پانی اس کے پیٹ میں ہے تو اس اونٹ کا کیا لگتا ہے تو اُسے پھرنے دے۔اس نے کہا یا رَسُولَ اللهِ ! اگر کہیں گری پڑی کوئی تھیلی مجھے مل جائے تو پھر کیا حکم 72