نظام نو — Page 71
پہلے یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کے امتیازی فرق بعض فلسفی نظریوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ نظریے یہ ہیں :- پہلا نظریہ اول بعض کہتے ہیں کہ دنیا میں جس کا زور چلتا ہو وہی لے جاتا ہے اس لئے ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا چاہئے۔انگریزوں کا زور چلا تو انہوں نے کئی ملکوں پر قبضہ کر لیا، اسی طرح جب اٹلی نے ایسے سینا پر حملہ کیا تو مسولینی نے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ ہم نے یہ حملہ محض ایسے سینیا والوں کی خدمت کرنے کے لئے کیا ہے اور اس اقدام سے ہماری وہی غرض ہے جو انگریزوں کی ہندوستان میں تھی۔وہ کہتے ہیں ہندوستان پر ہم اس لئے حکومت کر رہے ہیں کہ وہاں کے جاہلوں کو پڑھا ئیں اور اُسے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیں۔پھر کیا ہم میں انسانیت نہیں پائی جاتی کہ ہم دوسروں کی خدمت نہ کریں اور اُن کے ملک پر قبضہ کر کے ان کی جہالت کو دور نہ کریں۔پس یہ بھی ایک دلیل ہے جو بعض لوگوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔دوسرانظریہ دوسرے بعض کہتے ہیں کہ جو فائق ہوا سے فائق ہی رہنا چاہئے یعنی مالی طور پر جس کا غلبہ ہو اور جو اپنے زور بازو سے کماتا ہواس میں دخل نہیں دینا چاہئے۔تیسرا نظریہ اسی طرح ایک اور نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ نسلی فوقیت بھی ایک حقیقی فوقیت ہے اس کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ عقیدہ ویسا ہی ہے جو ہندو مذہب میں پایا جاتا ہے کہ شودر شودر ہی رہے گا۔ویش ولیش ہی رہیگا۔کھتری کھتری ہی رہیگا اور برہمن برہمن ہی رہے گا۔71