نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 129

نظام نو — Page 51

سوشلزم غالب ہوا۔اگر یو نائٹڈ سٹیٹس امریکہ والے جیتے تو کہہ دیں گے کہ کرسچن سوشلزم غالب ہوا۔گویا وہ ہمیشہ کیلئے غالب کے یار بن گئے ہیں اور جو چیز بھی دنیا میں ترقی کرتی ہے اُسے کر سچن سویلزیشن (Civilisation) کا غلبہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ایک وقت تھا کہ طلاق نہ دینا مسیحیت کا خاصہ تھا اور اب یہ حالت ہے کہ طلاق دینا مسیحیوں کا خاصہ ہے۔گویا ان کا مذہب کیا ہے موم کی ناک ہے جس طرح چاہو موڑ لو اس نے ٹوٹنا تو ہے ہی نہیں۔پس میسحیت بطور مذہب کے دنیا کے سامنے نہ کوئی پروگرام رکھ سکی نہ رکھ سکتی ہے اور نہ رکھ سکے گی۔ہندو مذہب کے نظریہ کے ماتحت نئے نظام کا قیام ناممکن ہے ہندومت نے دنیا کے سامنے تناسخ اور ورنوں کی تعلیم پیش کر کے اپنے لئے اور دوسری اقوام کے لئے امن کا راستہ بالکل بند کر دیا ہے کیونکہ تناسخ کے ماتحت یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایسا نیا نظام قائم ہو جس میں غریب اور امیر کا فرق جاتا رہے۔جب تناسخ کو ماننے والے تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر ایک شخص کو غریب پیدا کیا ہے تو یہ اس کے پچھلے جنم کے اعمال کی سزا ہے تو اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے امیر اور غریب کے امتیاز کوکس طرح مٹایا جاسکتا ہے۔اس عقیدہ کے ماتحت تو اگر خدا نے کسی کو زار بنایا ہے تو پچھلے جنم کے اعمال کا انعام دینے کے لئے اور اگر کسی کو غریب بنایا ہے تو اُسے اس کے اعمال کی سزا دینے کے لئے اب کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے۔پس تناسخ کے ہوتے ہوئے ہندومت دنیا کی ترقی کے لئے کوئی نیا پروگرام پیش نہیں کر سکتا کیونکہ نیا پروگرام وہی ہو سکتا ہے جو موجودہ حالت کو بدل کر ایک نئی حالت پیدا کر دے اور جب دنیا کی موجودہ حالت پُرانے جنم کے اعمال کا اٹل نتیجہ ہے تو دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائیگا کہ یہی حالت دنیا کے لئے مقدر ہے اور جب یہی حالت دنیا کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے تو کس کی طاقت ہے کہ اس حالت کو بدل سکے۔51