نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 129

نظام نو — Page 49

کے ماتحت جتنے ٹیکس ہونگے سب یہودیوں کو ملیں گے۔اسی طرح یہودیت یہ نہیں کہتی کہ تو کسی کو غلام نہ بنا بلکہ وہ کہتی ہے اپنے بھائی کو ہمیشہ کے لئے غلام نہ بناؤ۔گویا اول تو اپنے بھائی کو غلام بناؤ ہی نہیں اور اگر بناؤ تو ہمیشہ کے لئے نہ بناؤ۔اس کے متعلق یہودی مذہب میں یہ حکم ہے کہ ہر غلام ساتویں سال آزاد کر دیا جائے لی۔اگر کوئی شخص ساتویں سال کے معا بعد کوئی غلام خریدے تو اس تعلیم کے ماتحت وہ چھ سال کے بعد آزاد ہو جائیگا۔اگر ایک سال گذر چکا ہو تو وہ پانچ سال کے بعد آزاد ہو جائیگا، دو سال گذر چکے ہوں تو چار سال کے بعد آزاد ہو جائیگا تین سال گذر چکے ہوں تو تین سال کے بعد اور اگر چار سال گذر چکے ہوں تو دوسال کے بعد آزاد ہو جائیگا اور اگر کوئی چھٹے سال کسی غلام کو خریدے تو وہ اگلے سال خود بخود آزاد ہو جائیگا۔گویا زیادہ سے زیادہ سات سال تک ایک یہودی کو غلام بنایا جا سکتا ہے اس سے زیادہ عرصہ کسی کو غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔باقی دنیا کے لوگ خواہ ساری عمر غلام رہیں اسکی یہودیت کوئی پرواہ نہیں کرتی۔پھر یہودیت کی تعلیم میں ایک اور بات یہ پائی جاتی ہے کہ وہ غیر قوموں کے ساتھ بہت سخت سلوک کرنے کا حکم دیتی ہے۔چنانچہ توریت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ:۔” جب تو کسی شہر کے پاس اس سے لڑنے کے لئے آپہنچے تو پہلے اس سے صلح کا پیغام کر تب یوں ہوگا کہ اگر وہ تجھے جواب دے کہ صلح منظور اور دروازہ تیرے لئے کھول دے تو ساری خلق جو اس شہر میں پائی جاوے تیری خراج گزار ہوگی اور تیری خدمت کریگی۔اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے جنگ کرے تو تو اس کا محاصرہ کر۔اور جب خداوند تیرا خدا اُسے تیرے قبضہ میں کر دیوے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اس شہر میں ہو اس کا سارا لوٹ اپنے لئے لے۔اور تو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھے دی ہے کھائی۔اسی طرح سے تو ان سب شہروں سے جو تجھ سے بہت جو دور ہیں اور اُن قوموں کے شہروں میں سے نہیں ہیں، کیجئیو۔یہ تو غیر ملکوں کے متعلق حکم ہے کنعان کی سرزمین جو موعود سر زمین تھی اس کے متعلق یہ حکم 49