نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 129

نظام نو — Page 44

قوم کو نقصان پہنچے گا اُس وقت وہ اُن کے مشورہ کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔بہر حال اسلام کے طریق کے مطابق دونوں امور کو بیک وقت ملحوظ رکھ لیا جاتا ہے۔ایک طرف عوام کی رائے لی جاتی ہے اور دوسری طرف جو دماغ اعلیٰ ہوا سے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ موازنہ کرلے اور جو مشورہ قوم اور ملک کے لئے مہلک ہو اُسے قبول نہ کرے باقی مشوروں کو قبول کر لے۔مگر نیشنلسٹ سوشلزم کی تحریک میں انفرادیت پر حد سے زیادہ زور دیا گیا ہے حالانکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سارا گاؤں غلطی پر ہوتا ہے اور ایک بڑھا زمیندار صحیح بات کہتا ہے اور کبھی بڑھا غلطی پر ہوتا ہے اور نوجوان صحیح بات کہہ رہے ہوتے ہیں۔بہر حال یہ سب افراط اور تفریط کی طرف نکل گئے ہیں۔موجودہ جنگ اور اس کا نتیجہ موجودہ جنگ اسی باہمی کشمکش کا نتیجہ ہے۔روس والے چاہتے ہیں کہ ہمارا نظریہ قائم ہو جائے اور وہ حالات جو روس میں پیدا ہیں وہی باقی تمام ممالک میں پیدا ہو جا ئیں اور انگلستان، فرانس اور امریکہ والے سوشلسٹ کہتے ہیں کہ جو دولتیں ہم کھینچ چکے ہیں وہ ہمارے ہاتھ میں ہی رہیں جرمن، روم، جاپان اور ہسپانیہ والوں کے ہاتھ میں نہ چلی جائیں۔پہلی لڑائی سوشلزم اور نیشنل سوشلزم کے درمیان ہوئی۔سوشلزم والوں نے اس لئے جنگ کی کہ اُن کے موجودہ اقتدار میں فرق نہ آئے اور نیشنل سوشلزم والوں نے اسلئے حملہ کیا کہ صاحب اقتدار لوگوں کی دولت کھینچ کر اپنے ملک میں لے آئیں۔تیسری تحریک بالشوزم کی تھی۔جرمن والوں نے ہوشیاری کر کے اس موقعہ پر روس سے سمجھوتا کر لیا اور اُسے یہ دھوکا دیا کہ اگر برسر اقتدار طاقتوں کو زوال آیا تو بولشویک بھی اس لوٹ میں حصہ دار ہونگے۔بولشویکس اس دھوکہ میں آگئے اور انہوں نے نیشنلسٹ سوشلزم والوں سے سمجھوتہ کر لیا لیکن جب فرانس کا زور ٹوٹ گیا۔اور ادھر مشرقی ممالک کوشکستیں ہونی شروع ہوئیں تو ہٹلر نے کچھ ضروریات جنگ کی وجہ سے اور کچھ اس خیال سے کہ انگلستان پر فوری حملہ تو کیا نہیں جاسکتا اگر سپاہی بیٹھے رہے تو گھبرا جائیں گے اور کچھ اس 44