نظام نو — Page 36
کے ذریعہ سے دوسروں کا فائدہ ہو اس میں تو وہ دلچسپی لیتا ہے مگر جس کام کا فائدہ اُسے یا دوسروں کو کسی دوسرے کے ہاتھ سے پہنچے اس میں وہ زیادہ دلچسپی نہیں لیتا۔جب تم کسی کے دماغ سے اس رنگ میں کام لو گے کہ خواہ اس کام کا نتیجہ اُسے نظر آئے یا نہ آئے وہ کرتا چلا جائے تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ اس کام میں دلچسپی نہیں لیگا کیونکہ دلچسپی نتیجہ نظر آنے سے ہوتی ہے۔اب تو جو شخص تعلیم حاصل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے اگر میں ایم اے ہو گیا یا یونیورسٹی امتحان میں فرسٹ (First) نکل آیا تو مجھے کوئی اعلیٰ ملازمت مل جائے گی یا کوئی خیال کرتا ہے کہ میں فوج میں لیفٹیننٹ ہو جاؤنگا، کوئی خیال کرتا ہے میں ای۔اے بی ہو جاؤنگا، کوئی خیال کرتا ہے میں بڑا تاجر ہو جاؤ نگا اور اسطرح خود بھی رو پید کاؤنگا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کی بھی خدمت کرونگا۔اس وجہ سے وہ اپنی تعلیم میں بڑی دلچسپی لیتا ہے لیکن فرض کرو یہ محرک جاتا رہے اور حکومت فیصلہ کر دے کہ جسقدر طالب علم پڑھ رہے ہیں سب کو پندرہ پندرہ روپے ملیں گے، جو پرائمری پاس ہوا سے بھی پندرہ روپے ملیں گے، جو پرائمری فیل ہوا سے بھی پندرہ روپے ملیں گے، جو ایم۔اے پاس ہوا سے بھی پندرہ روپے ملیں گے اور جو انٹرنس پاس ہوا سے بھی پندرہ روپے ملیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ پیدا ہوگا کہ دماغ کی کاوش محنت اور جوش سب ختم ہو جائیگا اور ایک عام انسان کہے گا۔مجھے محنت کی کیا ضرورت ہے۔میرا دوست روز سینما دیکھتا ہے میں بھی کیوں سینمانہ دیکھا کروں اور کیوں ایم۔اے بنے کی کوشش کروں ایف اے تک ہی تعلیم حاصل کر کے کیوں نہ ختم کر دوں۔جب مجھے آخر میں پندرہ روپے ہی ملنے ہیں تو زیادہ تعلیم حاصل کرنے اور زیادہ جد و جہد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔بہت تھوڑی تعداد ایسے لوگوں کی نکلے گی جنہیں علم سے ذاتی شغف ہو اور جنہیں اگر مار پیٹ کر بھی تعلیم سے ہٹانا چاہیں تو وہ نہ ہیں۔زیادہ تر ایسے لوگ ہی نکلیں گے جو ان حالات میں تعلیم سے دلچسپی لینا ترک کر دیں گے اسی طرح ہر فن کے لوگ اپنے اپنے فن میں دلچسپی لینا ترک کر دینگے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آہستہ آہستہ انسانی دماغ گرنا شروع ہو جائیگا اور وہ خواص جو نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں مٹ جائیں گے۔36