نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 129

نظام نو — Page 35

گیا ہے مذہبی پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔گویا اگر پہلے نقص کو یہ تحریک دُور بھی کر دے اور اس نظام کے اصول میں ساری دنیا سے ہمدردی کرنا شامل کر لیا جائے تب بھی مذہب کا خانہ خالی ہے حالانکہ جسمانی ضرورتوں سے مذہبی اور دینی ضرورتیں زیادہ اہم ہوا کرتی ہیں۔یہ لوگ مذہب کے دشمن نہیں مگر انہیں مذہب سے ہمدردی بھی نہیں اور جب ہمدردی نہیں تو انہوں نے مذہب کے لئے خرچ کیا کرنا ہے؟ دوسری تحریک اس مرض کا علاج کرنے کے لئے وہ جاری کی گئی ہے جو روس میں پائی جاتی ہے اور جس کا نقطۂ مرکزی یہ ہے کہ انفرادی جد و جہد کو بالکل مٹادیا جائے اور جسقدر دولت ہو وہ حکومت کے ہاتھ میں آجائے جو لوگ ہاتھ سے کام کرنے والے ہوں اُن کے لئے تو مناسب گذارے مقرر کر دیئے جائیں مگر خالص علمی اور مذہبی کام کرنے والوں کو عضو بے کار قرار دیکر حکومت کی مدد سے محروم کر دیا جائے اور عام گذارہ سے زیادہ بچی ہوئی تمام دولت حکومت کے ہاتھ میں ہو۔اور کام اور مقام کا فیصلہ بھی حکومت کرے اور ماں باپ کو مذہب کی تعلیم دینے کا اختیار نہ دیا جائے اور اس تحریک کو ساری دنیا میں پھیلایا جائے یہاں تک کہ دنیا کی سب اقوام اس تحریک میں شامل ہو جائیں۔گو یہ لوگ اقتدار عوام کے حامی ہیں مگر شروع میں ایک لمبے عرصے تک یہ اقتدار عوام کو سونپنے کے لئے تیار نہیں۔یہ تحریک روس میں بالشوزم اور کمیونزم (COMMUNISM)اور دوسرے ممالک میں کمیونزم کہلاتی ہے اس تحریک کے اصولی نقائص یہ ہیں : کمیونزم کے سات اصولی نقائص۔پہلا نقص یعنی انفرادی جد و جہد کے رستہ کی بندش اوّل۔انفرادی جد وجہد کا راستہ بالکل بند کر دیا گیا ہے یہ اس تحریک میں ایک خطرناک نقص ہے جو گو اسوقت محسوس نہیں کیا جاتا مگر بعد میں کسی وقت ضرور محسوس کیا جائیگا۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں یہ مادہ رکھا ہے کہ جس کام سے اس کا ذاتی فائدہ ہو یا جس کام کے نتیجہ میں اس 35