نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 129

نظام نو — Page 34

جس کے معنے یہ ہیں کہ پانچ سو یا سات سو روپیہ ماہوا مگر وہ کہلا تا مزدور ہے۔غرض انہوں نے ایک تو معیار زندگی کو بڑھا لیا ہے دوسرے انہوں نے یہ اصول مقرر کیا ہوا ہے کہ ملک کی تجارت اور اقتصادی حالت کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جائے اس طرح ملک کی دولت بڑھے گی اور جب ملک کی دولت بڑھے گی تو غرباء کو بھی ترقی حاصل ہوگی۔یہ انگلستان، فرانس اور امریکہ کی تحریک سوشلزم کے نتائج ہیں لیکن اس تحریک کی ہمدردی زیادہ تر اپنے ملک کے غرباء کے ساتھ ہے۔وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک کی بھی کچھ اشک شوئی کریں مگر یہ نہیں چاہتے کہ دوسرے ممالک میں جو اُن کی اقوام کو نفوذ اور اقتدار حاصل ہے وہ مٹ جائے۔ہندوستان کا سوال آجائے تو وہ ضرور اشک شوئی کرنے کی کوشش کریں گے مگر جب بھی وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو کچھ دے دیا جائے اُسوقت وہ یہ نہیں چاہتے کہ اُن کے اقتدار میں کوئی فرق آئے۔گویا اُن کا ہندوستانیوں سے ایسا ہی سلوک ہوتا ہے جیسے ایک پالتو جانور کو اچھی غذا دی جاتی ہے۔پالتو جانور کو اچھی غذا دینے والا اچھی غذا تو دیتا ہے مگر اپنی غذا کو نقصان نہیں پہنچنے دیتا اسی طرح یہ لوگ ہندوستان کو جب بھی کوئی حق دینا چاہتے ہیں ساتھ ہی یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی امپیریلزم کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔آج ہمارا مزدور چار سو روپیہ ماہوار لیتا ہے اگر کل وہ دوسو روپیہ تک پہنچ گیا تو ہماری حالت بھی وہی ہو جائیگی جو ہندوستان اور افغانستان کے غرباء کی ہے۔اس تحریک کے دو عظیم الشان نقصانات ہیں۔سوشلزم تحریک کے دو عظیم الشان نقصانات یعنی غیر ملکوں سے ہمدردی کا فقدان اور مذہب سے بے تو نبی اول اس تحریک کو ساری دنیا سے ہمدردی نہیں بلکہ اپنے اپنے ملک سے ہمدردی ہے۔گویا یہ تحریک مخفی امپیریلزم کی شریک حال ہے اور انٹرنیشنلزم کا ساتھ صرف اس لئے دیتی ہے کہ دوسری اقوام آگے نہ بڑھیں۔دوسرا نقص اس تحریک میں یہ ہے کہ اس میں صرف دنیوی پہلو کو مد نظر رکھا 34