نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 129

نظام نو — Page 28

جرمنی اور اٹلی کی طرف سے بالشوزم کے خلاف پروپیگینڈا کا پہلا ذریعہ آخر ہٹلر اور مسولینی نے اس کا توڑ نکالا اور لوگوں سے کہا کہ تم فکر نہ کرو ناسزم اور فیسر م بھی امیروں کے مالوں پر قبضہ کریگی اور ملک کی تمام تجارتوں اور صنعت و حرفت پر قبضہ کر کے غریبوں کو اُن کا حق دلوائیگی۔پس آئندہ براہ راست مزدور اور سرمایہ دار کا تعلق نہیں ہوگا بلکہ حکومت کے توسط سے ہوگا اور اس طرح انہیں وہ تکلیف نہیں ہوگی جو تاجروں سے پہنچتی ہے یا کارخانہ داروں سے پہنچتی ہے کیونکہ ہماری حکومتیں تجارتوں اور صنعت و حرفت پر خود قبضہ رکھیں گی اور اس طرح غریبوں کا حق انہیں دلوائیں گی۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کو مالدار بنانے کے لئے بڑے بڑے کارخانوں کی ضرورت ہے بڑی بڑی تجارتوں کی ضرورت ہے تاکہ مالداروں سے مال لیکر تمہاری بہتری پر خرچ کیا جا سکے اس غرض کے لئے ضروری ہے کہ بیرونی ممالک سے تجارت جاری رکھی جائے اور اس طرح اُنکے مال کو لوٹ کر اپنے ملک کے غرباء کی ترقی کے لئے خرچ کیا جائے مثلاً انہوں نے لوگوں سے کہا کہ تم چین کو نہیں لوٹ سکتے۔تم امریکہ، انگلستان یا فرانس کو نہیں لوٹ سکتے ، لوٹنے کا طریق یہی ہے کہ ہمارے پاس بڑے بڑے جہاز ہوں ، بڑے بڑے کارخانے ہوں، بڑی بڑی تجارتیں ہوں اور ہمارے تاجر باہر جائیں اور ان ممالک کے اموال لوٹ کر لے آئیں۔پس انہوں نے اپنے ملک کے لوگوں کو سبق دیا کہ تم ان بڑے بڑے تاجروں کو مال کمانے دو پھر اُن سے مال چھین کر ہم تمہیں دے دیں گے۔اگر ایسا نہ ہوا تو وہی مثال ہو جا ئیگی جیسے کہتے ہیں کہ کسی شخص کے پاس ایک مرغی تھی جو روزانہ ایک سونے کا انڈہ دیا کرتی تھی اُس کے دل میں حرص پیدا ہوئی کہ اگر میں اسے زیادہ کھلا ؤ نگا تو یہ دو انڈے روزانہ دیا کریگی چنانچہ ایک دن اس نے اسے خوب کھلایا مگر نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مرگئی اور آئندہ سونے کا انڈہ ملنا بند ہو گیا۔یہی بات جرمنی اور اٹلی کی حکومتوں نے اپنی رعایا کے کانوں میں ڈالی کہ اگر امراء کو ایک دفعہ لوٹ لیا اور پھر انہیں کمانے کا موقعہ نہ دیا تو وہ غریب ہو جا ئینگے اور اُن کی لوٹ میں تم ایک 28