نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 129

نظام نو — Page 27

فیلنکس تحریک نے سر اٹھایا۔بالشوزم کے مقابلہ میں نئی تحریکات کا مقصد ان تینوں تحریکات کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ تھا بالشوزم کا مقابلہ کرنا انہوں نے سمجھا کہ اگر یہ خیالات لوگوں میں پھیل گئے تو ہماری ترقی بالکل رُک جائیگی۔چونکہ عوام الناس پر بالشویک تحریک کا اثر لازمی تھا اس لئے غرباء اس تحریک کے حامی تھے کیونکہ وہ کہتے تھے اس ذریعہ سے ہمیں کپڑے ملیں گے ، کھانا ملے گا، دوا ملے گی اور ہماری تمام ضروریات کو پورا کیا جائیگا۔دُور کے ڈھول ہمیشہ سہانے ہوتے ہیں۔ہندوستان میں بھی کئی لوگ بالشویک تحریک کے حامی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت میں سرکار کے آدمی ہر شخص کے پاس آتے اور اُسے سلا سلا یا پاجامہ اور سیلی سلائی قمیص دے دیتے ہیں، اسی طرح کھانے کے لئے جسقد رغلہ ضروری ہو وہ دے دیتے ہیں یا اور جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے حکومت فورأ مہیا کر دیتی ہے۔وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر یہ تحریک جاری ہو جائے تو دنیا کا تمام موجودہ نظام توڑ کر بے شک ہر شخص کو روٹی کپڑا ملے گالیکن جو بچے گا وہ سرکار لے جائیگی مگر عام لوگ ان باتوں کو نہیں دیکھتے وہ صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ اس تحریک کے نتیجہ میں ہمیں روٹی کپڑا ملے گا اور کوئی شخص بنگا یا بھوکا نہیں رہے گا۔اٹلی اور جرمنی کی طرف سے بالشوزم کے خلاف اور نائسزم اور فیسزم کی حمایت میں پرو پیگنڈا کے مختلف ذرائع غرض جرمنی اور اٹلی میں بھی عوام الناس پر اس تحریک کا اثر ہونے لگا اور لوگ یہ کہنے لگ گئے کہ ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔اس سے ہر شخص کو آرام حاصل ہو جائیگا اور دکھ درد جاتا رہیگا۔27