نظام نو — Page 14
حکومت کے اختیارات قبضہ میں نہ آجائیں اس وقت تک کوئی سیاسی یا تمدنی اصلاح نہیں ہوسکتی۔مارکسزم اور اسکا پہلا اُصول پس مارکسزم جو انٹر نیشنل سوشلزم کی ایک شاخ ہے جبر کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی مؤید ہے اور اقتصادی تغیرات سے آزادی حاصل کرنے کی بجائے سیاسی تغیرات سے آزادی حاصل کرنے کی حامی ہے۔پھر اسی نظریہ کے ساتھ مارکسزم یہ بات بھی پیش کرتی ہے کہ سوشلزم والے اس لئے کامیاب نہیں ہو سکے کہ انہوں نے امیروں سے مل کر کام کرنا شروع کر دیا حالانکہ امیروں کا قبضہ اتنا پرانا ہو چکا ہے کہ اسکے ہوتے ہوئے غرباء کو کوئی حق حاصل ہی نہیں ہوسکتا۔مارکس کے نزدیک ڈیما کریسی کا اصول بالکل غلط ہے اور امیروں اور غریبوں کا میل جول بھی غلط ہے۔اس کے نزدیک امیروں کو ایسا ہی سمجھنا چاہئے کہ گویا وہ انسان نہیں اور جو اختیار غرباء کو لیں وہ انہیں اپنے قبضہ میں لے لیں۔مارکسزم کا دوسرا اُصول دوسرا نظریہ اس نے یہ پیش کیا کہ ہمیں اس غرض کے لئے جبر کرنا چاہئے۔جتھا بناؤ ،حملہ کرو اور حکومت پر قبضہ کر لو۔یہی کارل مارکس کا نظریہ تھا جس سے بالشوزم پیدا ہوا۔مارکسزم کا تیسرا اُصول مارکس نے ایک یہ رائے بھی دی کہ مالدار زمیندار اور صناع اتنی طاقت پکڑ چکے ہیں اور مزدور اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کے توڑنے پر بھی وہ زیادہ دیر تک اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتے۔لطیفہ مشہور ہے کہ کسی کا کوئی سائیں سے تھا جسے آٹھ دس روپے ماہوار ملا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی شخص نے اُسے سمجھایا کہ آجکل ہر شخص کو چالیس پچاس روپے ملتے 14