نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 129

نظام نو — Page 68

ہوا۔اسکا جواب یہ ہے کہ اسلامی قانون یہ ہے کہ ایسی صورت میں وہ گورنمنٹ کے پاس درخواست کر سکتا ہے کہ میں صاحب عقل ہوں، کما سکتا ہوں، مگر میرا مالک مجھے جان بوجھ کر غلام بنائے ہوئے ہے ایسی صورت میں قاضی فیصلہ کر کے اسے آزادی کا حق دے دیگا۔غرض کوئی صورت ایسی نہیں جس میں غلاموں کی آزادی کو مدنظر نہ رکھا گیا ہو۔اول مالک کو کہا کہ وہ احسان کر کے چھوڑ دے۔دوم اگر مالک ایسا نہ کر سکے تو غلام کو اختیار دیا کہ وہ تاوان جنگ ادا کر کے آزادی حاصل کرلے اور اگر فدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو مکاتبت کرلے اور کہہ دے کہ میں اتنی مقسطوں میں روپیہ دے دوں گا مجھے دویا تین سال کی مہلت دے دو۔ایسا معاہدہ کرتے ہی وہ عملاً آزاد سمجھا جائیگا اور اگر ان ساری شرطوں کے باوجود کوئی شخص یہ کہے کہ میں آزاد ہونا نہیں چاہتا تو ماننا پڑے گا کہ اُسے اپنی غلامی آزادی سے اچھی معلوم ہوتی ہے اور حقیقت یہی ہے کہ صحابہ کرام کے پاس جو غلام تھے انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کے ماتحت وہ اس عمدگی اور آرام کے ساتھ رکھتے تھے کہ انہیں اپنی آزادی سے صحابہ کی غلامی بہتر معلوم ہوتی تھی۔صحابہ کرام کا غلاموں سے حسن سلوک صحابہ جو کچھ کھاتے وہی انہیں کھلاتے جو کچھ پہنتے وہی انکو پہناتے ، انہیں بدنی سزا نہ دیتے ، اُن سے کوئی ایسا کام نہ لیتے جو وہ کر نہ سکتے ، ان سے کوئی ایسا کام نہ لیتے جس کے کرنے سے وہ خود کراہت کرتے اور اگر لیتے تو کام میں اُنکے ساتھ شریک ہوتے اور اگر وہ آزادی کا مطالبہ کرتے تو انہیں فوراً آزادی دے دیتے بشرطیکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر دیں۔ان حالات کو دیکھ کر غلاموں کا جی ہی نہیں چاہتا تھا کہ وہ آزاد ہوں۔وہ جانتے تھے کہ یہاں ہمیں اچھا کھانا کھانے کو ملتا ہے بلکہ آقا پہلے ہمیں کھلاتا ہے پھر خود کھاتا ہے گھر گئے تو معمولی روٹی ہی ملے گی۔اسلئے وہ آزادی کا مطالبہ ہی نہیں کرتے تھے۔پس گووہ غلام تھے مگر در حقیقت اُن کے دل فتح ہو چکے تھے اور ایسے ہی تھے جیسے حضرت خدیجہ کے غلام زید بن حارثہ تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ 68