نظام نو — Page 63
دیا جائے اور کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جس سے دشمن کے مقابلہ میں فائدہ اٹھایا جاسکے تو اس طرح دشمن کی طاقت بڑھ جائیگی کم نہیں ہوگی لیکن اس میں بھی اسلام اور موجودہ حکومتوں کے طریق عمل میں بہت بڑا فرق ہے۔جنگی قیدیوں سے کام لیتے وقت اُن کی طاقت کا خیال رکھنے اور اُنکی خوراک و پوشاک کے متعلق اسلامی ہدایات آجکل جنگی قیدیوں میں سے بڑے بڑے افسروں کو تو کچھ نہیں کہا جا تا لیکن عام قیدیوں سے سختی سے کام لیا جاتا ہے مگر اسلام کہتا ہے (۱) تم کسی قیدی سے اُس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لو (۲) دوسرے جو کچھ خود کھاؤ وہی اس کو کھلا ؤ اور جو کچھ خود پہنو وہی اسکو پہناؤ۔اب ذرا یورپین حکومتیں بتا ئیں تو سہی کہ کیا وہ بھی ایسا ہی کرتی ہیں؟ کیا انگریز ، جرمن اور جاپانی قیدیوں کو وہی کچھ کھلاتے ہیں جو خود کھاتے ہیں۔یا جرمن انگریز قیدیوں کو وہی کچھ کھانے کے لئے دیتے ہیں جوخو دکھایا کرتے ہیں وہ ایسا ہر گز نہیں کرتے۔مگر اسلام کہتا ہے جو کھانا خود کھاؤ وہی انکو کھلا ؤ اور جو کپڑا خود پہنو، وہی انکو پہناؤ اور اس بارہ میں صحابہ اسقدر تعہد سے کام لیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ صحابہ ایک سفر پر جا رہے تھے اور اُن کے ساتھ بعض غلام بھی تھے وہ غلام خود روایت کرتے ہیں کہ راستہ میں جب کھجور میں ختم ہونے کو آئیں تو صحابہ نے فیصلہ کیا کہ وہ خود تو گٹھلیوں پر گزارہ کرینگے اور ہمیں کھجوریں کھلائیں گے چنانچہ وہ ایسا ہی کرتے رہے اور گٹھلیاں بھی انہیں کافی نہ ملتی تھیں جن سے پیٹ بھر سکتا۔تو یہ حکم جو اسلام نے دیا ہے کہ جو کچھ خود کھاؤ وہی اپنے قیدیوں کو کھلاؤ اس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی صرف صحابہ کرام ہی ہیں جنہوں نے یہ نمونہ دکھایا۔اسلامی تعلیم میں جنگی قیدیوں پر سختی کرنے اور انکو مارنے پیٹنے کی ممانعت پھر فرماتا ہے انہیں مار و پیٹ نہیں اور اگر کوئی شخص انہیں غلطی سے مار بیٹھے تو وہ غلام جسے مارا 63