نظام خلافت

by Other Authors

Page 47 of 112

نظام خلافت — Page 47

47 انسان کی ہدایت کے لئے اس کی سنت مستمرہ کچھ اس طرح جاری ہے کہ ظلمت و تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں وہ اپنے برگزیدہ بندوں کو نبوت و رسالت کا تاج پہنا کر قندیل ہدایت کے طور پر مبعوث کرتا ہے۔ان انبیاء کے ذریعہ خدائی پیغام ہدایت کی تخم ریزی ہوتی ہے اور شجر ہدایت پروان چڑھنے لگتا ہے۔ان رسولوں اور نبیوں کی بعثت دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت اولیٰ کا ظہور ہوتا ہے۔اصطلاحاً ان کو خلیفتہ اللہ کہا جاتا ہے۔قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کے بارہ میں معین طور پر یہ الفاظ ملتے ہیں۔یہ مقام در حقیقت اللہ تعالیٰ کے ہر نبی کو عطا کیا جاتا ہے۔عمیق حکمتوں کے مالک خدا نے ازل سے یہ طریق جاری کیا ہے کہ جب بھی نبی یا رسول کے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آتا ہے تو اس کے کسی قدر نا تمام کام کو کمل کرنے کے لئے ، اس کے لگائے ہوئے باغ کی مسلسل آبیاری اور نگہداشت کے لئے اور اسے ترقی دیکر اس کے انتہائی نقطہ کمال تک پہنچانے کے لئے ایک بار پھر اپنی قدرت کا کرشمہ دنیا کو دکھاتا ہے۔یہ اس کی قدرت ثانیہ کا ظہور ہوتا ہے۔اللہ کی راہنمائی میں مومنین اپنے میں سے ایک خدا کے بندے کا انتخاب کرتے ہیں جو دراصل خدا کا انتخاب ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اذن سے اس منتخب بندہ کے سر پر خلافت کا تاج رکھا جاتا ہے۔اصطلاحاً اسے خلیفۃ الرسول کہا جاتا ہے۔جماعت کا یہ روحانی سربراہ، نبی کے بعد اسکے جاری کردہ کام کو آگے سے آگے بڑھانے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالی کی تائید و نصرت کے سایہ میں کام کرتا ہے اور اس کی وفات پر یہ سلسلہ آگے سے آگے