نظام خلافت — Page 35
35 کی ترقی کی خاطر کوشش اور قربانی کی توفیق کا ملنا بھی اسی خلافت سے وابستگی کا ایک شیریں ثمر ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو دیکھو ہم ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں مگر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے؟ ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ تمام لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتماعی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔وہ بظاہر چند افراد نظر آتے ہیں مگر ان میں ایسی قوت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ بڑے بڑے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔جس طرح آسمان سے پانی قطروں کی صورت میں گرتا ہے پھر وہی قطرے دھاریں بن جاتی ہیں اور وہی دھاریں ایک بہنے والے دریا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔اس طرح ہمیں زیادہ قوت اور شوکت حاصل ہوتی چلی جارہی ہے۔۔۔۔اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی ہے۔“ اسی طرح فرمایا : روزنامه الفضل ربوه ، ۲۵ مارچ ۱۹۵۱) اسلام کبھی ترقی نہیں کر سکتا جب تک خلافت نہ ہو۔ہمیشہ