نظام خلافت — Page 86
86 پہلے رکھا گیا ہے۔جو شخص سنے گا نہیں وہ عمل کیسے کر سکے گا ؟ احادیث نبویہ میں بھی نظام سے وابستگی اور نظام کے سر براہ اعلیٰ کی مکمل اطاعت کا ذکر بہت کثرت سے ملتا الله ہے۔ایک حدیث میں رسول پاک ﷺ نے فرمایا: أوصِيكُم بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْع وَالطَّاعَةِ (ترمذی کتاب الایمان كتاب الاخذ بالسنة ) اس حدیث سے یہ نکتہ معرفت بھی ملتا ہے کہ حصول تقویٰ کے دو بڑے زینے کان کھول کر ہدایات کا سننا اور ان پر عمل کرنا ہیں۔ایک اور حدیث نبوی میں آتا ہے: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا (بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعة ) پھر ایک اور حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں : السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ (ابو داؤد كتاب الجهاد باب في الطاعة) گویا ایک سچے مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ حرف نصیحت سننے اور اس کی اطاعت کرنے کا پیکر ہوتا ہے۔اطاعت کے ضمن میں یہ نکتہ بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ قرآن مجید کی جس سورۃ میں آیت استخلاف وارد ہوئی ہے اسی سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً (آیت ۶۴) یعنی اے مومنو! یہ نہ سمجھو کہ رسول کا تم میں سے کسی کو بلانا ایسا ہی ہے جیسا کہ تم