نظام خلافت

by Other Authors

Page 76 of 112

نظام خلافت — Page 76

76 میری مراد اس دور میں جماعت احمدیہ کے اندر قائم ہونے والے ان خلفائے کرام سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔ان خلفائے عظام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے اس منصب کے لئے چنا اور اس کی غالب تقدیر نے خلافت کا تاج ان کے سروں پر رکھا۔خدا ان کا معلم اور راہنما بنا اور ان کو علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کیا۔آئیے سنئے کہ خدا کے ان برگزیدہ بندوں نے مشفق و مہربان ناصح کے طور پر، کن الفاظ میں افراد جماعت کو خلافت کے تعلق میں ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرمایا۔عرفان و حکمت پر مبنی یہ وہ سنہری الفاظ ہیں جو خدا کے بندوں کے منہ سے نکلے اور جن میں ہماری روحانی زندگی کی بقا اور ترقی کا راز مضمر ہے۔بطور نمونہ چند منتخب ارشادات پیش کرتا ہوں: سید نا حضرت خلیفتہ اسی الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حَبْلُ اللہ کے ساتھ ہو۔قرآن تمہارا دستور العمل ہو۔باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضان الہی کو روکتا ہے چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ۔اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو۔وحدت