نظام خلافت — Page 73
73 دین صاحب بورڈ نگ کے ایک ملازم تھے۔ان کی بیوی، پہلے بچے کی ولادت کے وقت بہت تکلیف میں تھی۔اس کربناک حالت میں رات کے بارہ بجے وہ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کے دروازہ پر حاضر ہوئے۔دروازہ پر دستک دی۔آواز سن کر پوچھا کون ہے؟ اجازت ملنے پر اندر جا کر زچگی کی تکلیف کا ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔حضور فوراً اٹھے، اندر جا کر ایک کھجور لیکر آئے اور اُس پر دعا کر کے انہیں دی اور فرمایا: می اپنی بیوی کو کھلا دیں اور جب بچہ ہو جائے تو مجھے بھی اطلاع دیں۔" چوہدری حاکم دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں واپس آیا کھجور بیوی کو کھلا دی اور تھوڑی ہی دیر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچی کی ولادت ہوئی۔رات بہت دیر ہو چکی تھی میں نے خیال کیا کہ اتنی رات گئے دوبارہ حضور کو اس اطلاع کے لئے جگانا مناسب نہیں۔نماز فجر میں حاضر ہوکر میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کھجور کھلانے کے جلد بعد بچی پیدا ہوگئی تھی۔اس پر حضرت خلیات مسیح الاول رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا وہ سننے اور یا در کھنے سے تعلق رکھتا ہے۔دلگد از الفاظ طبیعت میں رقت پیدا کر دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا : میاں حاکم دین ! تم نے اپنی بیوی کو کھجور کھلا دی اور تمہاری بچی پیدا ہوگئی۔اور پھر تم اور تمہاری بیوی آرام سے سو گئے۔مجھے بھی اطلاع کر دیتے تو میں بھی آرام سے سو رہتا۔میں تو ساری رات جاگتا رہا اور تمہاری بیوی کے لئے دعا کرتا رہا!