نظام خلافت — Page 72
72 کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں“ (انوار العلوم۔جلد ۲ صفحہ ۱۵۶) ہی تسلسل میں حضرت خلیفت ابیع الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا ایک ارشاد پیش کرتا ہوں جس میں آپ نے اپنی قلبی کیفیات اور دعاؤں کا تذکرہ ایک دلگد از رنگ میں کیا ہے۔آپ نے فرمایا: میں آپ میں سے آپ کی طرح کا ہی ایک انسان ہوں اور آپ میں سے ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اتنا پیار پیدا کیا ہے کہ آپ لوگ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے بعض دفعہ سجدہ میں میں جماعت کے لئے اور جماعت کے افراد کے لئے یوں دعا کرتا ہوں کہ اے خدا! جو مجھے ما لکھنا چاہتے تھے لیکن کسی ستی کی وجہ سے نہیں لکھ سکے ان کی مرادیں پوری کر دے۔اور اے خدا! جنہوں نے مجھے خط نہیں لکھا اور نہ انہیں خیال آیا ہے کہ دعا کے لئے خط لکھیں اگر انہیں کوئی تکلیف ہے یا ان کی کوئی حاجت اور ضرورت ہے تو ان کی تکلیف کو بھی دور کر دے اور حاجتیں بھی پوری کر دے“ (روز نامه الفضل ربوه ۲۱ دسمبر ۱۹۶۶) حضرت خلیة یہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ کے زمانے کا واقعہ ہے۔چوہدری حاکم