نظام خلافت

by Other Authors

Page 54 of 112

نظام خلافت — Page 54

54 حالات پیدا ہوتے رہے لیکن خلافت کی برکت سے، ہر خوف کی حالت اللہ تعالیٰ کے فضل سے امن میں تبدیل ہوتی رہی اور اسلام کو غیر معمولی تمکنت اور استحکام نصیب ہوا۔خلافت راشدہ بلاشبہ تاریخ اسلام کا ایک سنہری دور تھا اور اس کی عظمت، رسولِ مقبول ہے کے اس ارشاد سے بھی معلوم ہوتی ہے جس میں آپ نے فرمایا: "عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، 66 (ترمذى كتاب العلم باب الاخذ بالسنة - ابو داؤد كتاب السنة باب لزوم السنة) کہ اے مسلمانو! تم پر میری اور میرے ان خلفاء کی سنت کی پیروی لازم ہے جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت عطا کی جائے گی اور اس ہدایت کی روشنی میں وہ مومنوں کی راہنمائی کرنے والے ہوں گے۔رسول مقبول ﷺ نے اپنے بعد خلافت راشدہ کے قیام اور اس کے معین عرصہ کا بھی ذکر فر ما دیا تھا۔فرمایا: الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَاماً ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ، (مسند احمد جلد ۵ صفحه ۲۲۰) یعنی میرے بعد قائم ہونے والی خلافت تمیں سال جاری رہے گی اور پھر اس کے بعد ملوکیت کا دور ہوگا۔پیشگوئی کے عین مطابق تمیں سال تک خلافت راشدہ کا سورج امت مسلمہ پر بڑی شان سے چمکتا رہا اور پھر پر بھی دنیا داری کے رنگ غالب آگئے۔حدیث نبوی میں اس بارہ میں بہت معین پیشگوئی ملتی ہے۔