نظام خلافت — Page 53
53 روک ڈال سکے۔اس کو ایک قوت اور اقبال دیا جاتا ہے اور ایک غلبہ اور کامیابی اس کی فطرت میں رکھ دی جاتی ہے خلافت راشده 66 روزنامه الفضل قادیان، ۲۵ مارچ ۱۹۴۱) ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے ﷺ کے وصال کے موقعہ پر صحابہ مارے غم کے دیوانہ ہورہے تھے۔اس انتہائی کسمپرسی کے عالم میں اللہ تعالی نے اپنے وعدہ کے عین مطابق خلافت راشدہ کا بابرکت نظام جاری فرمایا۔جونہی صحابہ نے حضرت ابوبکر صدیق کے دست مبارک پر بیعت کر کے آپ کو خلیفة الرسول تسلیم کیا ، زخمی دلوں کو ایک سکون کی کیفیت نصیب ہوگئی۔حضرت ابو بکر صدیق" کے بعد یکے بعد دیگرے حضرت عمر بن الخطاب ، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی گرم رض الله وَجهَةٌ نے بارِ خلافت اٹھایا۔اس سنہری دور خلافت میں اسلام نے غیر معمولی ترقی اور وسعت حاصل کی۔اسلام کی بھر پور اشاعت ہوئی۔اس دور میں مختلف مراحل پر فتوں نے بھی سر اٹھایا۔بالخصوص حضرت ابو بکر کے خلیفہ بنتے ہی جھوٹے مدعیان نبوت، منکرین زکوۃ اور ارتداد وغیرہ کے فتنوں کے وجہ سے نہایت مشکل حالات پیدا ہوئے لیکن حضرت ابو بکڑ نے بڑی ہمت ، استقلال اور جرات سے ان سب فتنوں پر غلبہ پایا۔اسی طرح بعد میں بھی مشکل