نظام خلافت — Page 13
13 شاعر اسلام حضرت حسان بن ثابت ایک عرصہ سے بصارت سے محروم تھے لیکن اس روز پہلی بار انہیں پتہ چلا کہ واقعی ان کی آنکھوں کا نور جاتا رہا۔کتنا درد اور غم پنہاں ہے ان کے ان اشعار میں جوان کی زبان پر جاری ہوئے : صلى الله كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيُّ عَلَيْكَ النَّاظِر مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ کہ اسے محمد ع تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں۔اب تیرے بعد مجھے کیا پرواہ، جو چاہے مرے۔مجھے تو تیری ہی موت کا ڈر تھا۔یہ کربناک کیفیت صرف ایک حسان کے دل کی نہ تھی بلکہ سارے صحابہ ہی غم کے مارے دیوانہ ہورہے تھے۔ایک تو یہ غم تھا کہ وہ ماں سے بڑھ کر شفقت کرنے والے پیارے وجود سے محروم ہو گئے ہیں اور دوسرے یہ غم ان کی جانوں کو بالکان کئے جا رہا تھا کہ ہمارے اس محبوب کی مقدس امانت کا اب کون محافظ ہوگا ؟ خل اسلام کا کیا بنے گا؟ کون اس کی آبیاری اور حفاظت کرے گا ؟ ابھی تو تخم ریزی کا کام ہی ہوا ہے کون اس کو اپنے خون جگر سے سینچے گا اور کون اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا؟ یہ فکر ان کی روحوں کو گداز کر رہا تھا کہ اب اسلام کا دفاع ، اس کی اشاعت اور اس کی ترقی کیونکر