نظام خلافت — Page 14
14 ہوگی ؟ اسلام کی عالمگیر فتح و نصرت اور ترقی وغلبہ کے خدائی وعدے کیونکر پورے ہونگے ؟ خلافت راشده تاریخ اسلام کے اس سنگین ترین موڑ پر صحابہ کرام کی حالت یہ تھی کہ وہ ان فکروں کی تاب نہ لا کر جیتے جی موت کی وادی میں اترنے والے تھے کہ صادق الوعد خدا نے اپنے محبوب کی امت کی دستگیری فرمائی اور اس کے دست رحمت نے خلافت کے ذریعہ ان کے شکستہ دلوں کو تھام لیا۔خدائے قادر کا یہ سکینت بخش ہاتھ خلافت کی شکل میں آگے بڑھا اور لرزاں و ترساں دلوں کو سکون و اطمینان سے بھر دیا۔پژمردہ دلوں میں جان پیدا ہوگئی کہ خدائے حی و قیوم نے ایک یتیم اور جاں بلب امت کے سر پر خلافت کا تاج رکھ کر انہیں ایک راہنما عطا کر دیا جو ان کے محبوب آقا کا قائمقام اور اس نسبت سے ان کا محبوب آقا قرار پایا۔صحابہ کے چہرے خوشی سے تمتمانے لگے۔جسم کو ایک سرمل گیا، کارواں کو ایک سالا مل گیا جس کے سر پر خدائی نصرت کا سہرا جگمگارہا تھا۔یہ ظہور تھا قدرت ثانیہ کا۔یہ انعام تھا خلافت راشدہ کا اور یہ تکمیل تھی اس خدائی وعدہ کی جو اسلام کی سربلندی اور غلبہ کے لئے خدا تعالیٰ نے مومنوں سے سورۃ النور کی آیت استخلاف میں فرما رکھا تھا۔اس خدائی وعدہ اور اس کے پر شوکت ظہور کی تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنئے۔آپ فرماتے ہیں: وو یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو