نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 85
۶۴ ایک خاص جوش اور ولولہ نظر آتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے نہایت درد بھرے دل کے ساتھ جماعت احمدیہ کے افراد کو تو حید الہی پر قائم ہونے اور پھر اس کی اشاعت کے لئے اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کارلانے کی طرف ترغیب دلائی۔چنانچہ آپ جماعت کی تنظیموں کی مجالس عاملہ کو مخاطب کرتے ہوئے خطبہ جمعہ ے نومبر ۱۹۸۶ء کو فرماتے ہیں: ”سب سے اہم بات جس کو تمام دنیا کی مجالس عاملہ کوملحوظ رکھنا چاہئے وہ تو حید ہے۔تو حید خالص کسی آسمان پر بسنے والی چیز کا نام نہیں ہے۔(دین) جس خدا کو پیش کرتا ہے وہ آسمانوں کا بھی خدا ہے۔اس سے کائنات کا کوئی حصہ بھی خالی نہیں۔وہ نور السموت والارض ہے۔اس کی توحید کے دائرہ سے کوئی چیز بھی باہر نہیں۔اس کی توحید کے اثر اور نفوذ سے کوئی چیز خالی نہیں ہونی چاہئے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو جو حقیقی توحید پرست ہے اپنے طرز عمل میں توحید کا منظر پیش کرنا چاہئے۔اگر جماعت احمدیہ نے اس طرف سے غفلت کی اور ایسا ہونے دیا کہ انگلستان کی جماعت ایک الگ کردار لے کر اٹھ رہی ہو اور افریقہ کی جماعت ایک الگ کردار لے کر اٹھ رہی ہو اور اس طرح یورپ اور امریکہ، چین اور جاپان، انڈونیشیا اور ملائشیا کی اور دیگر ممالک کی جماعتیں اپنا اپنا ایک الگ کردار بنارہی ہوں تو تو حید قائم نہیں ہوسکتی۔توحید عمل کی دنیا میں دکھائی دینی چاہئے۔خدا کے نام پر اکٹھے ہونے والے محمد مصطفی اللہ کے نام پر جمع ہونے والے ایک ہونے چاہئیں اور انہیں وحدت کا منظر پیش کرنا چاہئے۔وحدت کے مناظر مختلف شکلوں سے اور مختلف زاویوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ایک وحدت کا منظر ہے۔آپس میں محبت کرنا اور ایک ہو جانا، جغرافیائی تفریقات کو بھلا دینا، رنگ و نسل کے امتیازات کو فراموش کر دینا اور ایک جان ہو جانا اس پہلو سے بھی تو حید کو