نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 41 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 41

ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسے کہ حضرت ابو بکر صدیق کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دِيْنَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا یعنی خوف کے بعد ہم ان کے پیر جمادیں گے۔(سورة نور: ۵۶) الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۰۵،۳۰۴) اسی طرح ایک دوسری جگہ خلافت کی اغراض بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولی ہیں ظلمی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سواسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم