نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 392 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 392

۳۷۱ اس شمارے میں مزید تحریر کرتے ہیں :۔قادیانیت میں نفع رسانی کے جو جو ہر موجود ہیں۔اولین اہمیت اس جد و جہد کو حاصل ہے۔جو اسلام کے نام پر وہ غیر مسلم ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ لوگ قرآن مجید کو غیر ملکی زبانوں میں پیش کرتے ہیں۔تثلیث کو باطل ثابت کرتے ہیں۔سید المرسلین کی سیرت طیبہ کو پیش کرتے ہیں۔ان ممالک میں مساجد بناتے ہیں اور جہاں کہیں بھی ممکن ہو اسلام کو امن اور سلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔( المنبر ۲ مارچ ۱۹۵۶ء بحوالہ اشاعت اسلام زمین کے کناروں تک ) جماعت احمدیہ کی یہ مساعی اور اس کے شیریں ثمرات حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔خدا تعالیٰ نے بالکل آغاز میں جو وعدے حضرت بانی سلسلہ کے ساتھ کئے تھے۔آج خدا کے فضل سے وہ تمام وعدے حرف بحرف پورے ہوتے نظر آرہے ہیں۔خدا تعالیٰ کی اس تائید و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:۔یہ سراسر فضل و احساس ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگاہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار میں تو مرکز خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار پر کرم اس قدر مجھ ہوئیں تیری عنایات و که تا روز قیامت ہو شمار جن کا مشکل ہے اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیاں بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیر بار