نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 383 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 383

۳۶۲ اس وقت تک چلتی چلی جاتی ہے۔جب تک کہ قوم خود ہی اپنے آپ کو خلافت کے انعام سے محروم نہ کر دے لیکن اس اصل سے ہرگز یہ بات نہیں نکلتی کہ خلافت کا مٹ جانا لازمی ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلافت اب تک چلی آ رہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ پوپ صحیح معنوں میں حضرت مسیح کا خلیفہ نہیں۔لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی تو مانتے ہیں کہ امت عیسوی بھی صحیح معنوں میں مسیح کی امت نہیں۔پس جیسے کو تیسا تو ملا ہے مگر ملا ضرور ہے۔بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے موسیٰ کے بعد ان کی خلافت عارضی رہی۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ان کی خلافت کسی نہ کسی شکل میں ہزاروں سال تک قائم رہی۔اسی طرح گورسول کریم ہے کے بعد خلافت محمد یہ تو اتر کے رنگ میں عارضی رہی۔لیکن مسیح محمدی کی خلافت مسیح موسوی کی طرح ایک غیر متعین عرصہ تک چلتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مسئلہ پر بار بار زور دیا ہے کہ مسیح محمدی کو مسیح موسوی کے ساتھ ان تمام امور میں مشابہت حاصل ہے۔جو امور کہ تکمیل اور خوبی پر دلالت کرتے ہیں سوائے ان امور کے کہ جن سے بعض ابتلا ملے ہوتے ہیں۔ان میں علاقہ محمدیت علاقہ موسویت پر غالب آجاتا ہے۔اور نیک تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔جیسا کہ مسیح اول صلیب پر لٹکایا گیا۔لیکن مسیح ثانی صلیب پر نہیں لڑکا یا گیا۔کیونکہ مسیح اول کے پیچھے موسوی طاقت تھی اور مسیح ثانی کے پیچھے محمدی طاقت تھی۔خلافت چونکہ ایک انعام ہے ابتلاء نہیں اس لئے اس سے بہتر چیز تو احمدیت میں آسکتی ہے جو کہ صیح اول کو لی لیکن وہ ان نعمتوں سے محروم نہیں رہ سکتی جو کہ مسیح اول کی امت کو ملیں۔کیونکہ مسیح اوان کی پشت پر موسوی برکات تھیں اور مسیح ثانی کی پشت پر محمدی برکات ہیں۔پس جہاں میرے نزدیک یہ بحث نہ صرف یہ کہ بیکار ہے بلکہ خطرناک ہے کہ ہم