نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 382 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 382

۳۶۱ اسی مضمون کے ازالہ کی خاطر آپ نے تحریر فرمایا اور روز نامہ الفضل ربوہ میں مورخہ ۳/اپریل ۱۹۵۲ء کو شائع ہوا۔جس سے اس مضمون سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کا ازالہ کر دیا گیا۔یہ مضمون درج ذیل عنوان سے شائع ہوا۔خلافت عارضی ہے یا مستقل؟ عزیزم مرزا منصور احمد نے میری توجہ ایک مضمون کی طرف پھیری ہے جو مرزا بشیر احمد صاحب نے خلافت کے متعلق شائع کیا ہے اور لکھا ہے کہ غالبا اس مضمون میں ایک پہلو کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔جس میں مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر کیا ہے کہ خلافت کا دور ایک حدیث کے مطابق عارضی اور وقتی ہے۔میں نے اس خط سے پہلے یہ مضمون نہیں پڑھا تھا۔اس خط کی بناء پر میں نے مضمون کا وہ حصہ نکال کر سنا تو میں نے بھی سمجھا کہ اس میں صحیح حقیقت خلافت کے بارہ میں پیش نہیں کی گئی۔مرزا بشیر احمد صاحب نے جس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ خلافت کے بعد حکومت ہوتی ہے۔اس حدیث میں قانون نہیں بیان کیا گیا۔بلکہ رسول کریم ہے کے بعد کے حالات کے متعلق پیشگوئی کی گئی اور پیشگوئی صرف ایک وقت کے متعلق ہوتی ہے۔سب اوقات کے متعلق نہیں ہوتی۔یہ امر کہ رسول کریم ﷺ کے بعد خلافت نے ہونا تھا اور خلافت کے بعد حکومت مستبدہ نے ہونا تھا اور ایسا ہی ہو گیا۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر مامور کے بعد ایسا ہی ہوا کرے گا۔قرآن کریم میں جہاں خلافت کا ذکر ہے، وہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خلافت ایک انعام ہے۔پس جب تک کوئی قوم اس انعام کی مستحق رہتی ہے۔وہ انعام اسے ملتا رہے گا۔پس جہاں تک مسئلے اور قانون کا سوال ہے۔وہ صرف یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد خلافت ہوتی ہے اور وہ خلافت