نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 381 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 381

ثابت ہے کہ یہی صورت ہر نبی کے زمانہ میں ہوتی ہے کہ پہلے نبوت قائم ہوتی ہے اور اس کے بعد خلافت آتی ہے اور اس کے بعد ملوکیت یعنی بادشاہت اور حکومت کا رنگ شروع ہو جاتا ہے۔اس جگہ سوال ہو سکتا ہے کہ کیا احمدیت میں بھی یہ صورت رونما ہوگی۔سو جب احمدیت کا نظام اسلام کے نظام کے فرع اور اسی کا حصہ ہے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ وہ بھی اس الہبی تقدیر کے تابع ہے جو اسلام کے متعلق عرش الوہیت سے جاری ہو چکی ہے۔لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت جمالی ہے اور جمال چونکہ جلال کے مقابلہ پر زیادہ وقت لے کر اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔اس لئے یہ امید کی جاتی ہے کہ احمدیت میں خلافت کا زمانہ نسبتاً زیادہ دیر تک چلے گا۔لیکن بہر حال یہ اٹل نقد بر ظاہر ہو کر رہے گی کہ کسی وقت احمدیت کی خلافت بھی ملوکیت کو جگہ دے کر پیچھے ہٹ جائے گی۔بلکہ یہ خاکسار خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور بعض دوسرے مکاشفات کے ذریعہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ احمدیت میں ملوکیت کا دور کب شروع ہوگا۔لیکن ایسی باتوں کا برملا اظہار قبل از وقت مناسب نہیں ہوتا۔اور آئندہ کی تقدیروں پر اخفا کا پردہ رہنا ہی سنت الہی ہے۔ولا عـلـم لـنـا الا ما علمنا الله العليم ولاحول ولاقوة الا بالله العظيم۔(روز نامه الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۵۱ء) پس حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کے اس مضمون سے یہ دھو کہ لگ سکتا ہے کہ خلافت احمدیہ ( جس کے بارہ میں ہمارا عقیدہ ہے کہ دائمی ہے ) پر بھی ایک وقت ایسا آسکتا ہے کہ یہ خلافت بھی ملوکیت کا رنگ اختیار کر جائے۔لہذا اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے ذیل میں حضرت مصلح موعود کا ایک مضمون نقل کیا جاتا ہے جو