نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 314 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 314

۲۹۳ خلافت رابعه حضرتخلیہ اسی اثاث کی وفات کےبعد جون ۱۹۸۲ کوحضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب بطور خلیفہ امسیح الرابع منصب خلافت پر فائز ہوئے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کا ظہور بھی الہی بشارتوں کے تحت ہوا۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک موقع پر بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکشاف کیا ہے کہ:۔”خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں خود مجھ کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا اور میں پھر کسی شرک کے زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے آؤں گا جس کے معنے یہ ہیں کہ میری روح ایک زمانہ میں کسی اور شخص پر جو میرے جیسی طاقتیں رکھتا ہوگا نازل ہوگی اور وہ میرے نقش قدم پر چل کر دنیا کی اصلاح کرے گا۔المصلح الموعود ) (الفضل ۱۹ فروری ۱۹۵۶ء) حضرت خلیفتہ مسیح الرابع کے مختصر حالات زندگی حضرت خلیفہ مسیح الرابع حضرت مصلح موعود کے فرزند تھے۔آپ ۱۸ دسمبر ۱۹۲۸ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۴ء کو میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اسی سال آپ کی والدہ محترمہ حضرت سیده مریم بیگم صاحبہ جو خاندان سادات میں سے تھیں وفات پاگئیں۔گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی اور پھر پرائیویٹ طور پر بی اے پاس کیا۔۱۹۴۹ء میں جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور ۱۹۵۳ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۵۵ء میں حضرت مصلح موعود کے ہمراہ یورپ تشریف لے گئے۔اور لندن کے سکول آف اورینٹل سٹڈیز میں تعلیم حاصل کی۔جہاں سے اکتوبر