نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 214 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 214

۱۹۳ قدرت ثانیہ کا ظہور وفات حضرت مسیح موعود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات سے قبل آپ کو متعدد ایسے الہامات ہوئے جن میں آپ کی وفات کے وقت کے قریب ہونے کے اشارے پائے جاتے تھے۔چنانچہ انہیں الہامات کے پیش نظر آپ نے ۱۹۰۵ء میں رسالہ الوصیت تحریر فرمایا کہ جماعت کو بعض نصائح فرمائیں۔نیز اپنے اور قدرت ثانیہ کے ظہور کی نوید سنائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات سے تقریباً ایک ماہ قبل حضرت اماں جان کے علاج کے سلسلہ میں مورخہ ۲۹ را پریل کو لاہور تشریف لے گئے۔جہاں آپ نے جناب خواجہ کمال الدین صاحب بی اے ایل ایل بی کے مکان پر قیام فرمایا۔وہاں قیام کے دوران حضور ”پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف تھے کہ مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۰۸ء کو آپ کو یہ الہام ہوا کہ :۔الرَّحِيْل ثُمَّ الرَّحِيْل وَالْمَوْتَ قَرِيبٌ۔یعنی کوچ کا وقت آگیا ہے۔ہاں کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے۔(بدر جلدے ص۲۲) یہ الہام اپنے اندر کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تھا۔بالآ خر مورخہ ۲۶مئی ۱۹۰۸ء کو بروز منگل صبح ساڑھے دس بجے آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے ابدی آقا اور محبوب کی خدمت میں پہنچ گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔كُلَّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔(بحوالہ سلسلہ احمدیہ ص ۱۸۴- از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے شائع کردہ شعبہ تالیف و تصنیف قادیان)