نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 202 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 202

۱۸۱ کیوں مانی۔اس کے تو یہ معنی ہیں کہ ہم بھی گنہگار ہو گئے اور آپ بھی۔ہم نے بھی غلطی کا ارتکاب کیا اور آپ نے بھی۔اب ہم نے تو اپنی غلطی سے توبہ کرلی ہے مناسب یہ ہے کہ آپ بھی تو بہ کریں اور اس امر کا اقرار کریں کہ آپ نے جو کچھ کیا ہے ناجائز کیا ہے۔اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ اگر حضرت علیؓ نے انکار کیا تو وہ یہ کہہ کر آپ کی بیعت سے الگ ہو جا ئیں گے کہ انہوں نے چونکہ ایک خلاف اسلام فعل کیا ہے اس لئے ہم آپ کی بیعت میں نہیں رہ سکتے اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ میں تو بہ کرتا ہوں تو بھی ان کی خلافت باطل ہو جائے گی کیونکہ جو شخص اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کرے وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔حضرت علیؓ نے جب یہ باتیں سنیں تو کہا کہ میں نے تو کوئی غلطی نہیں کی۔جس امر کے متعلق میں نے حکم مقرر کیا تھا اس میں کسی کو حکم مقرر کرنا شریعت اسلامیہ کی رو سے جائز ہے باقی میں نے حکم مقرر کرتے وقت صاف طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ وہ جو کچھ فیصلہ کریں گے اگر قرآن اور حدیث کے مطابق ہو گا تب میں اسے منظور کروں گا اور نہ میں اسے کسی صورت میں بھی منظور نہیں کروں گا۔انہوں نے چونکہ اس شرط کو ملحوظ نہیں رکھا اور نہ جس غرض کے لئے انہیں مقرر کیا گیا تھا اس کے متعلق انہوں نے کوئی فیصلہ کیا ہے اس لئے میرے لئے ان کا فیصلہ کوئی حجت نہیں۔مگر انہوں نے حضرت علیؓ کے اس عذر کو تسلیم نہ کیا اور بیعت سے علیحدہ ہو گئے اور خوارج کہلائے اور انہوں نے یہ مذہب نکالا کہ واجب الاطاعت خلیفہ کوئی نہیں۔کثرت مسلمین کے فیصلہ کے مطابق عمل ہوا کرے گا کیونکہ کسی ایک شخص کو امیر واجب الاطاعت ما نالا حُكْمَ إِلَّا لِلہ کے خلاف ہے۔( خلافت راشده از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ لمسیح الثانی بحوالہ انوار العلوم جلد ۵ صفحه ۴۸۶، ۴۸۸)