نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 170
۱۴۹ نے اپنے فضل اس شخص کے ساتھ وابستہ کر دئیے۔جب میں نے تمہاری بات مان لی تو اب تم کہتے ہو کہ ہم اس انعام پر راضی نہیں۔اب اس نعمت کے اوپر میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ لَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِینی کی طرف اشارہ کرنے کے فرمایا کہ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ یعنی انتخاب کے وقت تو ہم نے امت کو اختیار دیا ہے مگر چونکہ اس انتخاب میں ہم امت کی راہبری کرتے ہیں اور چونکہ ہم اس شخص کو اپنا بنا لیتے ہیں اس کے بعد امت کا اختیار نہیں ہوتا اور جو شخص پھر بھی اختیار چلانا چاہے تو یا درکھے وہ خلیفہ کا مقابلہ نہیں کرتا بلکہ ہمارے انعام کی بے قدری کرتا ہے۔پس وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ اگر انتخاب کے وقت وہ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ میں شامل تھا تو اب اس اقدام کی وجہ سے ہماری درگاہ میں اس کا نام وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ کی فہرست سے کاٹ کر فاسقوں کی فہرست میں لکھا جائے گا۔(خلافت را شد ه ص ۵۷۳٬۵۷۲، انوار العلوم جلد ۱۵- از فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) ایک دوسرے موقع پرحضرت خلیفہ امسح الثانی فرماتے ہیں:۔اب کون ہے جو مجھے خلافت سے معزول کر سکے۔خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے انتخاب میں غلطی نہیں کرتا ہے۔اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلاف بڑی نہیں ہوسکتی اور اگر سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آسکتا۔جیسے نبی اکیلا بھی نبی ہوتا ہے اس طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ نے جو بو جھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اسی کی مدد میرے شامل حال نہ ہو تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا لیکن مجھے اس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گا“۔(افضل ۱۴ مارچ ۱۹۳۱ء)