نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 88 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 88

۶۷ کر لو۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔( بدر ۴ جون ۱۹۰۸ء) اسی طرح آپ نے خلافت کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے اتفاق بڑی نعمت ہے اور یہ مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ تم کو ایسا شخص دے دیا جو شیرازہ وحدت قائم رکھے جاتا ہے وہ نہ تو نوجوان ہے اور نہ اس کے علوم میں اتنی وسعت جتنی اس زمانہ میں ہونی چاہئے لیکن خدا نے تو موسیٰ کے عصا سے جو بے جان لکڑی تھی اتنا بڑا کام لے لیا تھا کہ فرعونیت کا قلع قمع ہو گیا اور میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسان ہوں پس کیا عجب کہ خدا مجھ سے یہ کام لے لے۔تم اختلاف اور تفرقہ اندازی سے بچو۔نکتہ چینی میں حد سے بڑھ جانا بڑا خطرناک ہے۔اللہ سے ڈرو۔اللہ کی توفیق سے سب کچھ ہوگا“۔(بدر ۲۴ /اگست ۱۹۱۱ء) اسی طرح ایک دوسرے موقع پر فرمایا :۔تم ادب سیکھو کیونکہ یہی تمہارے لئے بابرکت راہ ہے۔تم اس حبل اللہ کو آپ مضبوط پکڑ لو۔یہ بھی خدا ہی کی رسی ہے جس نے تمہارے متفرق اجزاء کو اکٹھا کر دیا ہے۔پس اسے مضبوط پکڑے رکھو“۔( بدر یکم فروری ۱۹۱۲ء) ایک اور موقع پر فرمایا:۔تم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے بادشاہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ایک کیا۔پھر اس کے مرنے کے بعد میرے ہاتھ پر تم کو تفرقہ سے بچایا۔اس نعمت کی قدر کرو اور کھی بحثوں میں مت پڑو۔( بدرم جولائی ۱۹۱۲ء)