نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 6
عرض حال اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سال (۲۰۰۸) جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بہت ہی اہمیت اور خصوصیت کا حامل ہے۔کیونکہ اس سال مورخہ ۲۷ مئی کو خلافت احمد یہ کے قیام کو پورے سو سال مکمل ہو چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس دن جماعت احمد یہ عالمگیر نے مکمل دینی اور روحانی جوش و جذ بہ سے خلافت احمدیہ کی صد سالہ جو بلی منائی۔اور اس سلسلہ میں بعض عظیم الشان پروگرام ترتیب دیئے گئے۔چناچہ اسی مناسبت اور پس منظر کے تحت خاکسار نے یہ کتاب لکھی ہے۔جو دس ابواب پر مشتمل ہے۔اور اس میں نظام خلافت سے متعلق تقریبا تمام بنیادی اور ضروری پہلوؤں پر جماعت احمدیہ کے علم کلام کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔نیز خلافت احمدیہ کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کی ناکامی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔اسی طرح خلافت احمدیہ کے ابتدائی سوسالوں میں حاصل ہونے والے خلافت کے شیریں ثمرات و برکات کا طائرانہ جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔اس کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں نظام خلافت اور خلافت احمدیہ پر اٹھنے والے چیدہ چیدہ اعتراضات و سوالات کے جوابات بھی دئے گئے ہیں۔بالخصوص پیغامیوں کے اس غلط موقف کی معقلی و نقلی دلائل سے بھر پور تردید کی گئی ہے کہ قدرت ثانیہ سے مراد شخصی خلافت نہیں بلکہ انجمن مراد ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔