نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 463 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 463

۴۴۲ منعقد کرنے میں مزید آسانی پیدا ہوگئی۔حضور انور پونے پانچ بجے، نغمے گاتے ہوئے بچوں اور بچیوں کے پاس سے گزرتے اور از راہ شفقت کچھ دیر ٹھہرتے ہوئے اس سٹیج پر تشریف لائے جہاں لوائے احمدیت لہرائے جانے کا انتظام کیا گیا تھا۔حضور انور نے لوائے احمدیت لہرایا اور دعا کرائی۔جس کے بعد حضور انور اس تاریخی خطاب کے لئے پنڈال میں تشریف لائے جو خلافت احمدیہ کی دوسری صدی کا پہلا خطاب تھا۔حضور انور نے خطاب میں فرمایا کہ خلافت کے ذریعہ خوف کو امن میں بدلنے کا جو خدائی وعدہ تھا آج جماعت اس وعدہ کے بار بار پورا ہونے پر گواہ ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر دفعہ اپنا وعدہ پورا کیا اور وہ پودا جس کو خدا تعالیٰ نے خود لگایا تھا آج شجر سایہ دار کی طرح ساری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لئے ہوئے ہے اور یہ آواز زمین کے کناروں تک پھیل چکی ہے اور پھیل رہی ہے۔حضور انور نے فرمایا یہ خوشی کے مواقع خدا کا شکر گزار بنانے کے لئے آتے ہیں۔احمدیت کی تاریخ کا ہر دن تاریخ بنا رہا ہے اور سنہری باب رقم کر رہا ہے اور جماعت ہر جگہ تقاریب منا رہی ہے اور یہ جائز بھی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم بھی ہے۔عجز و نیاز اور انکساری اور عبودیت کی ضروری شرط ہے اور نعماء الہی کا اظہار بھی از بس ضروری ہے۔اس سے خدا کی محبت بڑھتی ہے اور جوش بھی پیدا ہوتا ہے۔یہ انعام جس سے خدا تعالیٰ نے ہمیں بہرہ ور کیا ہے آئندہ بھی جاری رہے گا۔اس لئے شکر کریں تا اس کی برکات میں کمی نہ آئے۔جتنا ہم عاجزی دکھائیں گے اتنا ہی خدا کی نعمتوں سے حصہ لیتے چلے