نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 439 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 439

۴۱۸ لئے ہے۔پس خلافت قرآن کریم سے ثابت ہے اور آیت استخلاف اور آیت مشاورة اس مسئلہ کا فیصلہ کر دیتی ہیں۔اسی طرح جب بنی اسرائیل نے اپنے ایک نبی سے اپنے اوپر ایک حاکم مقرر کرنے کی درخواست کی تو ان کے لئے کوئی انجمن نہ مقرر کی گئی بلکہ ان کے نبی نے یہ کہا کہ ان الله قد بعث لكم طالوت ملکا خدا نے تجھ پر طالوت کو بادشاہ بنایا ہے۔جس پر اس وقت بھی چند لوگوں نے کہا ونحن احق بالملک منـه اگر جمہوریت خدا تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہوتی تو ایک انجمن مقرر کی جاتی نہ بادشاہ۔اگر کہو کہ اس وقت زمانہ اور تھا اور اب اور ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرما چکا ہے کہ امت محمدیہ کی خلافت امت بنی اسرائیل کی خلافت کے مطابق ہوگی۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔خلافت طالوت کے متعلق یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالوت کا حکم قطعی قرار دیا گیا ہے اور جولوگ طالوت کے احکام کو مانتے تھے۔انہیں کو مومن کہا ہے اور آیت استخلاف میں بھی خلفاء کے منکرین کو فاسق کہا ہے جیسا کہ فرمایا فمن کفر بعد ذلك فاولئک هم الفاسقون خلفاء کے کافر فاسق ہوں گے۔یہ مسئلہ بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ حضرت آدم کو بھی خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا۔اور اس وقت جمہوریت کو قائم نہیں کیا تھا اور ان کے وجود پر ملائکہ نے اعتراض بھی کیا مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔انی اعلم مالا تعلمون پھر ملائکہ نے تو اپنے اعتراض سے رجوع کر لیا۔لیکن ابلیس نے رجوع نہ کیا اور ہمیشہ کے لئے ملعون ہوا۔پس خلافت کا انکار کوئی چھوٹا سا انکار نہیں۔شیطان جو اول الکافرین ہے وہ بھی خلیفہ کے انکار سے ہی کا فر بنا تھا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کون ملائکہ میں سے بنتا ہے اور کون ابلیس کا بھائی