نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 422 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 422

گے کہ اس کا ہاتھ کٹ گیا مگر تیرا تو موجود ہے۔پس یہی جواب ان معترضین کا ہے ہم انہیں کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں جابر بادشاہوں نے تلوار کے زور سے خلافت راشدہ کو قائم نہ ہونے دیا کیونکہ ہر کام ایک مدت کے بعد مٹ جاتا ہے پس جب تلوار کے زور سے مٹادی گئی تو اب کسی کو گناہ نہیں کہ وہ بیعت خلیفہ کیوں نہیں کرتا۔مگر اس وقت وہ کون سی تلوار ہے جو ہم کو قیام خلافت سے روکتی ہے۔اب بھی اگر کوئی حکومت زبر دستی خلافت کے سلسلہ کو روک دے تو یہ الہی فعل ہوگا اور لوگوں کو رکنا پڑے گا۔لیکن جب تک خلافت میں کوئی روک نہیں آتی اس وقت تک کون خلافت کو روک سکتا ہے اور اس وقت تک کہ خلیفہ ہو سکتا ہو جب کوئی خلافت کا انکار کرے گا وہ اسی حکم کے ماتحت آئے گا جو ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنھم کے منکرین کا ہے۔ہاں جب خلافت ہی نہیں تو اس کے ذمہ دار تم نہیں۔سارق کی سزا قر آن مجید میں ہاتھ کاٹنا ہے۔اب اگر اسلامی سلطنت نہیں اور چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتاتو یہ کوئی قصور نہیں۔غیر اسلامی سلطنت اس حکم کی پابند نہیں۔( منصب خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ ص ۶۱ ۶۲ ) سوال نمبر ۶:۔غیر مبائعین کی طرف سے نظام خلافت کے تعلق میں ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ خلافت راشدہ اولیٰ کے تمام خلفاء کو بادشاہت بھی حاصل تھی۔اگر خلافت احمد یہ خلافت راشدہ اولیٰ کی ظل ہے اور خلافت علی منہاج نبوت ہے تو پھر خلافت احمدیہ کو بادشاہت کیوں حاصل نہیں ہوئی ؟ جواب:۔اس سوال کے جواب میں حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں:۔ہاں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ خلیفہ اپنے پیش رو کے کام کی نگرانی کے لئے ہوتا ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ کے خلفاء ملک و دین دونوں کی حفاظت پر مامور تھے کیونکہ آنحضرت کو اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی دونوں بادشاہتیں دی تھیں لیکن مسیح