نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 414 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 414

۳۹۳ درست ہوئی جبکہ ان میں سے ایک چور ہے اور دوسرا نمازی یا ایک عالم ہے اور دوسرا جاہل بلکہ صرف لمبائی میں مشابہت دیکھی جائے گی۔ہر بات اور ہر حالت میں مشابہت نہیں دیکھی جائے گی۔اس کی مثال قرآن کریم سے بھی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا لا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا کہ ہم نے تمہاری طرف اپنا ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے اور وہ ویسا ہی رسول ہے جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول کریم ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آپس میں مشابہت بیان کی ہے۔حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے اور رسول کریم ہے کسی ایک بادشاہ کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے۔اسی طرح موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے مگر رسول کریم ﷺے ساری دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے۔پھر موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا زمانہ صرف چند سو سال تک ممتد تھا اور آخر وہ ختم ہو گیا مگر رسول کریم ﷺ کی رسالت کا زمانہ قیامت تک کے لئے ہے۔یہ حضرت موسیٰ اور آنحضرت ﷺ کے حالات میں اہم فرق ہیں مگر باوجود ان اختلافات کے مسلمان یہی کہتے ہیں بلکہ قرآن کہتا ہے کہ رسول کریم ﷺہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل ہیں حالانکہ نہ تو رسو کر یم ﷺ فرعون کی طرح کے کسی ایک بادشاہ کی طرف مبعوث ہوئے، نہ آپ کسی ایک قوم کی طرف تھے بلکہ سب دنیا کی طرف تھے اور نہ آپ کی رسالت کسی زمانہ میں موسیٰ کی رسالت کی طرح ختم ہونے والی تھی۔پس باوجودان اہم اختلافات کے اگر آپ کی مشابہت میں فرق نہیں آتا تو اگر پہلوں کی خلافت سے جزوی امور میں خلفائے اسلام مختلف ہوں تو اس میں کیا حرج ہے۔