نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 380 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 380

۳۵۹ ایک نبی اور مامور کی وفات کے بعد یہ ضروری ہے کہ اس کی خلافت کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہے؟ اگر یہ سلسلہ دائمی ہے تو اسلام کا جمہوریت کا نظام تو گویا ختم ہو گیا۔اس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ خلافت کا حکم دائمی ہے۔یعنی جب بھی کوئی نبی مبعوث ہو گا اس کے بعد لازماً خلافت آئے گی مگر خلافت کا سلسلہ دائی نہیں ہے۔یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک نبی کے بعد اس کے خلفاء کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہے بلکہ خلفاء کے سلسلہ کا زمانہ حالات اور ضرورت پر موقوف ہے۔یعنی چونکہ خلافت نبوت کا تمہ ہے اس لئے جب تک خدا تعالیٰ کسی نبی کے کام کی تکمیل اور اس کے بوئے بیج کی حفاظت کے لئے خلافت کا سلسلہ ضروری خیال فرماتا ہے یہ سلسلہ قائم رہتا ہے اور اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر خلفاء کی جگہ ملوکیت یا بالفاظ دیگر جماعت اور قوم کا دور دورہ شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم اپنے خلفاء کے متعلق فرماتے ہیں۔الخلافة ثلاثون عاما ثم يكون بعد ذالک الملک (مسند احمد ) یعنی میرے بعد خلفاء کا سلسلہ میں سال رہے گا اور اس کے بعد ملوکیت کا رنگ قائم ہو جائے گا۔اور اصولی رنگ میں فرماتے ہیں ما كانت نبوة قط الا تبعتها خلافة وما من خلافة الا تبعتها ملك “ (ابن عساکر ) یعنی کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جس کے بعد خلافت نہ آئی ہو اور کوئی خلافت ایسی نہیں ہوئی جس کے بعد حکومت کا رنگ نہ قائم ہوا ہو۔ان احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خلافت کا زمانہ میں سال قرار دیا ہے اور تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ زمانہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت تک پورا ہو جاتا ہے جس کے بعد ملوکیت کا دور دورہ شروع ہو گیا اور اوپر والی احادیث سے یہ بات بھی