نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 376
۳۵۵ ان کا سلسلہ ہمیشہ ہمیش جاری رہے۔صاحب صدر کی اقتداء میں شمع خلافت کے پروانوں نے عہد کے الفاظ دہرا کر اپنے عزم کا اظہار کیا۔خلافت کے ساتھ والہانہ محبت و عقیدت کا یہ منظر دیکھنے کے لائق تھا۔بیت مبارک ہزاروں قلوب کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی پُر جوش آوازوں سے گونج رہی تھی۔(الفضل ۲۹ مئی ۱۹۵۷ء) خلافت احمد یہ دائمی ہے آنحضرت ﷺ کی اپنے بعد خلافت علی منہاج نبوت قائم ہونے کی بشارت پر مبنی حدیث جو حضرت حذیفہ بن یمان سے مروی ہے اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد خلافت علی منہاج نبوت کے قائم ہونے کی خوشخبری دی۔پھر خلافت کے ملوکیت میں تبدیل ہو جانے اور پھر ظالم بادشاہت کے قیام کی خبر دینے کے بعد آخری زمانہ میں پھر ایک دفعہ خلافت علی منہاج نبوت کی نوید سنائی۔اس حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں کہ ”ثُمَّ سَكَتَ ، یعنی آخری زمانہ میں خلافت علی منہاج نبوت کے قیام کی نوید سنانے کے بعد حضور خاموش ہو گئے۔جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دوسری مرتبہ جب خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوئی تھی تو اس نے قیامت تک قائم رہنا تھا۔اور اس میں کوئی رخنہ یا تعطل پیدا نہیں ہونا تھا۔پس یہ حدیث خلافت احمدیہ کے دائی ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس وقت خلافت احمدیہ کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی کوئی خلافت نہیں۔صرف خلافت احمد یہ ہی ہے جو نبوت کے طریق پر ایک نبی کے بعد قائم ہوئی ہے اور تقریباً ایک سو سال سے جاری وساری ہے۔اور آنحضرت ﷺ کی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گی۔چنانچہ خلافت احمدیہ کے