نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 30
سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۳۱ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ (بقرہ:۳۱) یعنی زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔اسی طرح انہی معنوں میں یعنی خلافت نبوت سے سرفراز کرنے کے معنوں میں حضرت داؤد علیہ السلام کو خلیفہ بنایا گیا جیسا کہ سورۃ ص میں آتا ہے کہ يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيْفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّه۔(ص:۲۷) یعنی اے داؤد! یقیناً ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر اور میلان طبع کی پیروی نہ کر ورنہ وہ (میلان) تجھے اللہ کے رستے سے گمراہ کر دے گا۔پس حضرت آدم اور حضرت داؤد علیہ السلام کو خلیفہ صرف نبی اور مامور ہونے کے معنوں میں کہا گیا ہے۔چونکہ وہ اپنے اپنے زمانے کی ضرورت کے مطابق صفات الہیہ کو دنیا میں ظاہر کرتے تھے اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ظل بن کر ظاہر ہوئے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کہلائے۔۲۔خلافت قومی قرآن کریم سے جس دوسری قسم کی خلافت کا علم ہوتا ہے۔وہ خلافت قومی ہے جیسا کہ سورۃ اعراف میں آتا ہے کہ وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمٍ نُوحٍ۔(اعراف: ۷۰) اور یاد کرو جب اس نے نوح کی قوم کے بعد تمہیں جانشین بنادیا تھا۔یعنی قوم نوح کی تباہی کے بعد ان کی جگہ تم کو دنیا میں حکومت اور غلبہ حاصل ہو گیا۔اسی طرح حضرت صالح کی زبانی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاذْ