نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 288 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 288

رحمة بھی کسمپرسی نے انہیں منتشر کئے رکھا یہ لوگ مسلمان تھے۔رب العلمین کے پرستار اور حمہ العلمین کے نام لیوا۔مساوات واخوت کے علمبر دار لیکن اتنی بڑی مصیبت بھی انہیں یکجا نہ کرسکی اس کے برعکس ہم اعتقادی حیثیت سے احمدیوں پر ہمیشہ طعنہ زن رہے ہیں لیکن ان کی تنظیم ، ان کی اخوت اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کی حمایت نے ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نیا قادیان تعمیر کرنے کی ابتداء کر دی۔مہاجرین ہو کر وہ لوگ بھی آئے جن میں ایک ایک آدمی خدا کے فضل سے ایسی بستیاں بسا سکتا تھا لیکن ان کا روپید ان کی ذات کے علاوہ کسی غریب مہاجر کے کام نہ آسکار بوہ ایک اور نقطہ نظر سے بھی ہمارے لئے محل نظر ہے وہ یہ کہ حکومت بھی اس سے سبق لے سکتی ہے اور مہاجرین کی بستیاں اس نمونے پر بسا سکتی ہے۔اس لئے ربوہ عوام اور حکومت کے لئے ایک مثال ہے اور زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ لمبے چوڑے دعوے کرنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور عملی کام کرنے والے کچھ دعوی کئے بغیر کر دکھاتے ہیں“۔بيوت الذكر واشنگٹن (امریکہ ) ہیمبرگ، فرینکفرٹ (مغربی جرمنی ) زیورک (سوئٹزرلینڈ)، ہیگ (ہالینڈ)، ڈنمارک، سویڈن ، مغربی اور مشرقی افریقہ کے کئی ممالک میں ہماری کم و بیش ۳۰ بیوت الذکر تعمیر کی گئیں۔ان میں سے متعدد بیوت الذکر اتنی عظیم الشان ہیں کہ ان کی تعمیر پر کئی لاکھ روپیہ صرف ہوا ہے۔کالج اور سکول بیرونی ممالک میں جماعت احمدیہ کے ۵۷ کالج یا سکول قائم ہوئے جو بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔