نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 287
۲۶۶ میں احمدیوں کو آبا در رکھنے کا بھی نہایت اعلیٰ انتظام کیا۔چنانچہ اب بھی وہاں پر ایک بڑی تعداد میں احمدی درویشان قادیان کے نام سے آباد ہیں۔ربوہ مرکز کا قیام قادیان سے ہجرت کے بعد پاکستان آکر ربوہ جیسی عظیم الشان بستی آباد کر لینا اور جماعت احمدیہ کا دوبارہ مرکز تعمیر کر لینا حضرت مصلح موعود کا بہت بڑا کارنامہ ہے، جماعت لٹ لٹا کر پاکستان آئی تھی قادیان کے احمدی جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے۔حضور نے تھوڑے سے عرصے میں ہی ربوہ کی زمین حکومت سے حاصل کر کے ۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ء کو یہاں پر جماعت احمدیہ کے نئے مرکز کی بنیاد رکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم الشان بستی قائم کر کے دکھا دی۔ربوہ کا قیام حضور کا ایک بے نظیر کارنامہ ہے دیگر مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے ان کی تنظیمیں بھی موجود تھیں مگر کسی کو اس طرح کی بستی آباد کرنے کی توفیق نہ ملی۔سید نا حضرت مصلح موعودؓ نے ربوہ کی تعمیر کے وقت پاکستان بھر کے بڑے بڑے اخباروں کے نمائندگان کو ربوہ کی مجوزہ جگہ دیکھنے کی دعوت دی اور ربوہ کا مجوزہ نقشہ دکھاتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر لاہور کے مشہور کالم نویس با باوقار انبالوی مرحوم نے اپنے اخبار روزنامہ ”سفینہ میں لکھا کہ:۔گزشتہ اتوار کو امیر جماعت احمدیہ نے لاہور کے اخبار نویسوں کو اپنی نئی بہستی ربوہ کا مقام دیکھنے کی دعوت دی اور انہیں ساتھ لے کر وہاں کا دورہ کیا۔اس دورے کی تفصیلات اخباروں میں آچکی ہیں ایک مہاجر کی حیثیت سے ربوہ ہمارے لئے سبق ہے ساٹھ لاکھ مہاجر پاکستان آئے لیکن اس طرح کہ وہاں سے بھی اجڑے اور یہاں